تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 768 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 768

مِيْثَاقَهُمْ عہد ان کا اس بات پر کہ خدا کی عبادت کریں اور خدا کی عبادت کی طرف بلائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔یا ہر ایک کو بشارت دیں اُس پیغمبر کی کہ ان کے بعد ہوگا۔اور یہ عہد پیغمبروں سے روز الست میں لیا گیا۔ومنك اور لیا ہم نے تجھ سے بھی عہد اے محمد ( تفسیر حسینی اردو مطبوعه نولکشور جلد ۲ صفحه ۲۵۶) (۹) مَا كَانَ اللهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيْب - وَمَا كَانَ اللهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُّسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ فَأَمِنُوا بِاللهِ وَرُسُلِهِ ، وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ ( آل عمران : ۱۷۹) ترجمہ - اللہ تعالیٰ کے شیان شان نہیں کہ وہ مومنوں کو اسی حالت پر چھوڑ دے جس پر تم ہو۔بلکہ وہ طیب و خبیث میں امتیاز کرتا رہے گا۔مگر وہ تم کو ( براہِ راست ) غیب پر مطلع نہ کرے گا لیکن وہ جس کو چاہے گا اپنے رسولوں کے طور پر منتخب کرے گا۔تم اے مسلمانو! اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لاؤ۔اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تمہارے لئے بہت بڑا اجر ہوگا۔" قارئین کرام! اس آیت میں مخاطب صحابہ رضی اللہ عنہم اور ساری اُمت مسلمہ ہے، یہ خطاب پہلی قوموں سے نہیں مسلمانوں سے ہے۔اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ وہ خبیث اور طیب میں امتیاز کرے گا لیکن اس کے لئے یہ صورت نہ ہوگی کہ براہ راست ہر شخص کو یہ غیبی بات بتائی جائے کہ کون طبیب ہے اور کون نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اس امیتاز کے لئے یہ طریق اختیار فرمائے گا کہ وہ اپنے برگزیدہ رسول مبعوث کرتا رہے گا۔اس وعدہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سب رسولوں پر ایمان لائیں۔ایمان لانے اور تقویٰ اختیار کرنے کی صورت میں انہیں اجر عظیم ملے گا۔چنانچہ علامہ ابو حیان نے بھی اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:۔(768)