تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 766 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 766

انبِيَاء وَجَعَلَكُمْ قُلُوعًا (المائده : (۲۰) کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اے میری قوم اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو یاد کرو کہ اس نے تم میں انبیاء پیدا کئے اور اس نے تمہیں بادشاہت عطا کی۔دونوں آیتوں پر یکجائی نظر کرنے سے صاف گھل جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صراط الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی خود تعلیم کردہ دعا میں دراصل مسلمانوں کو بشارت دی ہے کہ تم پر بھی بادشاہت اور نبوت کا انعام جاری رہے گا کیونکہ یہ دونوں قومی انعام ہیں اور اب تم کو اللہ تعالیٰ نے منعم علیہم بنانے کا فیصلہ فرمایا ہے۔تم خیر امت ہو اور حضرت خیر الرسل کے ماننے والے ہو اس لئے اب تم کو ہی یہ انعام ملتا رہے گا۔البتہ یہ دعا کرتے رہو کہ خدایا ہمیں منعم علیہم بننے کے بعد پھر بھی یہود و نصاری کی طرح مغضوب علیہم یا ضالین نہ بنائیو۔(۷) وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ لَمَا أَتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ ، قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ اِصْرِى قَالُوا أَقْرَرْنَا، قَالَ فَاشْهَدُوا وَانَا مَعَكُمْ مِّنَ الشَّهِدِينَ (آل عمران : ۸۱) ط ترجمہ - یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے نبیوں سے یہ پختہ عہد لیا کہ میں نے ہی تم کو کتاب اور حکمت دی ہے۔پس اگر کوئی رسول تمہاری تعلیمات کا مصدق تمہارے پاس آئے تو اس پر ضرور ایمان لانا اور اس کی ضرور نصرت کرنا۔فرمایا کیا تم اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔اس آیت میں نبیوں سے عہد لینے کا ذکر ہے۔مراد یہی ہے کہ ہر نبی کے ذریعہ اس کی اُمت سے اقرار لیا گیا کہ آنے والے پیغمبر پر ایمان لائے اور اس کی تائید و نصرت کرے۔اس آیت میں رَسُولٌ مُصَدِّقُ لِمَا مَعَكُمْ “ سے مطلق طور پر ہر آنے والا (766)