تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 758 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 758

بھی بنے گا اُن کی مہر لگ کر بنے گا۔اس سیاق و سباق میں یہ بات نہ صرف یہ کہ بالکل بے تکی ہے بلکہ اس سے وہ استدلال اُلٹا کمزور ہو ا جاتا ہے جو اوپر سے معترضین کے جواب میں چلا آ رہا ہے۔“ (رسالہ ختم نبوت صفحہ ۹) افسوس کہ مودودی صاحب اتنی موٹی بات نہیں سمجھ سکے کہ کفار کے اس اعتراض کے جواب میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر لی ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی مرد کے باپ نہیں تو آپ کی روحانی ابوت کے اثبات کا سوال فوراً پیدا ہو گیا تھا اور یہی موقع تھا کہ بتایا جاتا کہ گوجسمانی طور پر آپ کسی مرد کے باپ نہیں مگر مت سمجھو کہ اب آپ کا نام کون لے گا، آپ کی تعریف کون کرے گا؟ کیونکہ آپ کو روحانی ابوت کے لحاظ سے صاحب الکوثر ہونے کا مقام حاصل ہے۔سب اہل ایمان آپ کے رسول ہونے کے لحاظ سے آپ کے فرزند ہیں اور سب انبیاء بھی آپ کے خاتم النبین ہونے کے لحاظ سے آپ کی معنوی اولاد ہیں اور یہ سلسلہ بند نہیں بلکہ آپ کی مُہر اور روحانی توجہ اور قوت قدسیہ ہمیشہ نبی تراش ثابت ہوتی رہے گی۔پس آپ کا محمد ( قابل تعریف وجود ) ہونا اس بات کا محتاج نہیں کہ آپ کا جسمانی بیٹا ہو۔آپ کی محمد بیت کو اللہ تعالیٰ آپ کے رسول اللہ اور خاتم النبیین ہونے سے ثابت کرتارہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاتم الانبیاء کے اسی مفہوم کے بارے میں فرمایا ہے کہ :- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا گیا جس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد براہ راست فیوض نبوت منقطع ہو گئے اور اب کمال نبوت صرف اسی شخص کو ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہوگا۔اور اسی طرح پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا اور آپ کا وارث ہوگا۔غرض اِس آیت میں ایک طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ اللہ ہونے کی نفی کی گئی اور دوسرے طور سے باپ ہونے کا اثبات بھی کیا گیا۔تاوہ اعتراض جس کا ذکر آیت اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر میں ہے دُور کیا جائے۔(758)