تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 756 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 756

-: پر کفار و منافقین کے جواب میں فرما دیا کہ نہیں۔“ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ یعنی تم لوگ تو خود جانتے ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سرے سے کوئی بیٹا ہے ہی اس بیان سے بہو سے شادی کر لینے کے اعتراض کا جواب تو بخوبی ہو گیا مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ دو سوال اُبھر کر سامنے آگئے :- (۱) شروع سورہ احزاب کی آیت وَازْوَاجةً أُمَّهُتُهُمُ میں بوجہ نبی ہونے کے آپ کو مومنوں کا باپ قرار دیا گیا تھا۔اب جب آپ کسی کے باپ نہیں تو کیا پھر آپ کی نبوت و رسالت بھی جاری رہی؟ (۲) مکہ میں دشمن آپ کو ابتر اور بے اولاد کہتے تھے قرآن مجید نے ان کی تردید کی تھی مگر اب خود ہی تسلیم کر لیا ہے کہ آپ کا کوئی بیٹا نہیں۔کیا دشمنوں کا اعتراض درست ثابت ہوگیا؟ ان دو اعتراضوں کے جواب میں خداوند عز وجل فرماتے ہیں وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ۔یعنی پہلے حصہ آیت میں ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی ابوت کی نفی کی ہے اور یہ کہا ہے کہ جسمانی طور پر آپ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن روحانی ابوت بدستور قائم ہے اور اس کا دائرہ زمانی اور مکانی طور پر بھی ، اور بلحاظ رتبہ وشرف بھی ، بہت وسیع ہے۔پہلے لفظ رَسُول اللہ میں النّبِيُّ أولى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجةَ أَمَّهُعُهم والی روحانی ابوت کو ثابت فرمایا ہے کیونکہ ہر رسول اپنی اُمت کا باپ ہوتا ہے اور اُس کی اُمت کے قائم رہنے سے اس کا نام باقی رہتا ہے۔دوسرے لفظ خاتم النبین میں اس بلند ترین روحانی ابوت کا اثبات فرمایا گیا ہے جو آیت اِنَّا اَعْطَيْنَاكَ الْكَوثَر اور آیت اِن شَانِئَكَ هُوَ الابتر میں ذکر کی گئی تھی۔گویا فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف اپنی اُمت کے عام افراد کے ہی باپ نہیں بلکہ آپ نبیوں کے بھی باپ اور اُن کو بھی روحانی زندگی بخشنے والے ہیں۔پس اگر آپ کا جسمانی بیٹا کوئی نہیں تو کچھ حرج نہیں۔آپ کی روحانی اولاد (756)