تفہیماتِ ربانیّہ — Page 71
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ کا فر حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیوی سے مشابہ ہیں کہ نبوت ان کے گھر میں تھی مگر وہ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے مور دلعنت بن گئیں اسی طرح خدا تعالیٰ کا نبی کفار کے پاس آتا ہے اور بلا أجرت ان کی رہنمائی کرتا ہے مگر وہ اس کے معاند اور مخالف بن کر تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔مومنوں کی مثال فرعون کی بیوی اور حضرت مریم صدیقہ سے دی ہے۔یعنی مومن دو قسم کے ہوتے ہیں۔اول وہ جو نیکی اور تقویٰ پر قائم ہوتے ہیں مگر مسن شیطان سے بکلی پاک نہیں ہوتے۔بلکہ کبھی کبھار وہ جذبات نفسانی کے نیچے دب جاتے ہیں۔لیکن بہت جلد رَب نَجِّنِى مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِین کا وظیفہ شروع کر دیتے ہیں۔اور عنایت الہی ان کی دستگیری فرماتی ہے۔یہ مومن حضرت آسیہ زوجہ فرعون سے مشابہ ہیں۔دوم وہ مومن جو شیطان کے تمام راستوں کو بند کر کے احسان کی صفت سے متصف ہو جاتے ہیں بلکہ شیطان ان کے راستے کو چھوڑ کر دوسری راہ پر جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو مقام مریمیت کے وارث ہوتے ہیں۔ان کو ہی آیات بالا میں حضرت صدیقہ سے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔اس قرآنی حقیقت کے ماتحت اولیاء امت اور تظمین کا یہ خیال و اعتقاد ہے کہ بعض صفات میں مماثلت کی بنا پر ایک کا نام دوسرے کو دے دیا جاتا ہے۔اور یہ محاورہ ہر قوم میں ذائع وشائع ہے کہ سبھی کو حاتم اور شہ زور کو رستم قرار دیا جاتا ہے۔اس اصول کی طرف متوجہ کرنے کی خاطر علامہ فخر الدین رازی تحریر کرتے ہیں :- "إطلاق اِسْمِ الشَّيْن عَلَى مَا يُشَابِهُهُ فِي أَكْثَرِ خَوَاصِهِ وَصِفَاتِهِ جَائِزٌ حَسَنُ “ ہے۔( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحه ۶۸۹) ترجمہ کسی کا نام اس کے خواص اور صفات میں مشابہ پر بولنا بطریق احسن جائز اسی بناء پر فقہاء کا مشہور مقولہ ہے ” ابویوسُفَ أَبُو حَنِيفَةَ “ یعنی امام ابویوسف حضرت امام ابو حنیفہ سے ایسے مشابہ ہیں کہ وہی ہیں۔رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا مَنْ اَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ فِي زُهْدِه فَلْيَنْظُرُ إلى أبِي الدَّرْدَاءِ منصب امامت مصنفہ سید اسمعیل شہید صفحہ ۳۵) یعنی جو شخص بلحاظ زہد کے عیسی بن مریم کو دیکھنا چاہے وہ حضرت ابوالدرداء کو دیکھ لے۔گویا آپ زاہدانہ 71