تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 745 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 745

”جہاں تک میں نے اس تحریک کے منشاء کو سمجھا ہے احمدیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ مسیح کی موت ایک عام فانی انسان کی موت تھی اور رجعت مسیح گویا ایسے شخص کی آمد ہے جو روحانی حیثیت سے اس کا مشابہ ہے۔اس خیال سے اس تحریک پر ایک طرح کا عقلی رنگ چڑھ جاتا ہے۔“ (رسالہ علامہ اقبال کا پیغام ملت اسلامیہ کے نام صفحہ ۲۲-۲۳) گویا علامہ اقبال بھی آمد مسیح کے متعلق جماعت احمدیہ کے نظریہ کو معقول قرار دیتے ہیں۔پس مودودی صاحب کو اگر حضرت مسیح کے جسمانی نزول پر اصرار ہو تو انہیں پہلے حضرت مسیح کی جسمانی آسمانی زندگی از روئے قرآن مجید ثابت کرنی چاہئے جو محال ہے۔آنے والا مسیح بہر حال نبی ہے مودودی صاحب اس ضمن میں دوسری صریح غلطی یہ کر رہے ہیں کہ وہ مسیح کی آمد ثانی پر اُسے مسلوب النبوۃ قرار دیتے ہیں حالانکہ نبی کبھی بھی منصب نبوت سے معزول نہیں ہوتا۔مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ ہے ؎ وَاِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَفِي آمَانٍ عَنِ الْعِصْيَانِ عَمُدًا وَاعْتِزَالِ عہدہ نبوت کے لئے حکومتوں کے پریذیڈنٹوں کی طرح پانچ یا دس سال کی مدت مقرر نہیں ہوتی جس کے بعد نبی سابق صدر کی اصطلاح کے مطابق سابق نبی“ کہلانے لگ جائے۔نبی ہمیشہ نبی ہوتا ہے اور ہر جگہ نبی ہوتا ہے۔حضرت مسیح فرماتے ہیں وَجَعَلَنِي نَبِيًّا وَجَعَلَنِي مُبرَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَاَوْ ضَنِي بِالصَّلوةِ وَالزَّكوة مَا دُمْتُ حَيًّا ( مريم آیت ۳۰-۳۱) کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی بنایا اور بابرکت بنایا خواہ میں کسی جگہ ہوں اور جب تک میں زندہ رہوں مجھے اس نے نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کی وصیت کی ہے۔“ آنے وا کے بیج کو النواس بن سمعان کی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مربتہ نبی اللہ قرار دیا ہے۔( صحیح مسلم ) نواب صدیق حسن خان صاحب آف بھوپال لکھتے ہیں :- (745)