تفہیماتِ ربانیّہ — Page 70
پس جب سیدنا حضرت مرزا صاحب نے خود اس الہام کی بوضاحت تفسیر فرما دی تو کسی معاند کو کس طرح حق پہنچتا ہے کہ اپنے خود ساختہ مفہوم پر اعتراضات کی بنیاد رکھے؟ سوم - لفظ ”دردزہ مطلق تکلیف کے معنوں میں بھی مستعمل ہوسکتا ہے۔چنانچہ انجیل میں پولوس ”رسول“ کہتا ہے :- ”اے میرے بچو۔تمہاری طرف سے مجھے پھر جننے کے سے درد لگے ہیں۔“ (گلتیوں ۴/۱۹) انجیل کو محترف مبدل کہو مگر یہ تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ بطور محاورہ یہ لفظ اپنے مفہوم عمومی میں استعمال ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں اسی رنگ میں آیا ہے۔چنانچہ حضور تحریر فرماتے ہیں :- و پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے در ویزہ نہ کھجور کی طرف لے آئی یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا۔جنہوں نے تکفیر و توہین کی اور گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا۔(کشتی نوح صفحہ ۴۷) پس مصنف کا اعتراض سراسر مغالطہ دہی ہے اور صداقت سے کوسوں دُور۔مریم بننے کی حقیقت اس جگہ مناسب ہے کہ ہم یہ بھی بتا دیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مریم قرار دینے کا کیا مطلب ہے۔سورۃ التحریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ كَانَتَا تخت عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتُهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ التَّخِلِينَ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجْنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجْنِى مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَتِ رَيْهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَنِتِينَ (رکوع ۲) 70