تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 677 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 677

کرنا سراسر جہالت ہے۔جماعت احمدیہ کی ترقی بتا رہی ہے کہ یقینا یقیناً تین صدیوں کے اندر اندر یہ تمام امور پورے طور پر ظہور پذیر ہو جائیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ۔اے کاش ہمارے مخالفوں کو روحانی طور پر اتنی ہی بصیرت مل جاتی جس سے وہ ظاہری دنیا میں بڑ کے چھوٹے سے بیچ میں پتے، شاخیں اور تنے دیکھ سکتے ہیں تو وہ جماعت احمدیہ کے مستقبل کو دور بین آنکھ سے دیکھتے۔آیت قرآنی اَوَلَا يَرَوْنَ اَنَا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا، أَفَهُمُ الْغَلِبُونَ ہمارے دعوی پر شاہد ناطق ہے۔(۱۲) مسیح موعود اور اونٹ قرآن مجید اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں مسیح موعود کے وقت میں نئی نئی سواریوں کی وجہ سے اونٹوں کی قدر نہ رہے گی اور ان سے سعی ( تیز دوڑانے ) کی خدمت نہ لی جایا کرے گی کیونکہ اونٹ سے تیز رفتار سواریاں نکل آئیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کو متعدد مقامات پر ذکر فرمایا ہے۔مولوی ثناء اللہ صاحب شہادۃ القرآن اور اعجاز احمدی کی دو عبارتیں نقل کر کے لکھتے ہیں :- احمدی دوستو! کیا مکہ مدینہ کے درمیان مرزا صاحب کی زندگی میں یا بعد ان کے ریل جاری ہوئی ؟ کیا راجپوتانہ، بلوچستان، مارواڑ ، سندھ، عرب،مصر اور سوڈان وغیرہ ممالک میں اونٹ بریکار ہو گئے؟ ( تعلیمات صفحہ ۱۹) الجواب - احادیث نبویہ میں کسی خاص ملک کا نام نہیں آیا بلکہ عام پیشگوئی ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس پیشگوئی کو مطلق ہی قرار دیا ہے۔کسی ملک سے مخصوص نہیں فرمایا۔ملاحظہ ہو۔فرماتے ہیں کہ :- (۱) قرآن شریف اور احادیث اور پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ اس کے زمانہ میں ایک نئی سواری پیدا ہوگی جو آگ سے چلے گی اور انہی دنوں میں اونٹ بریکار ہو جائیں گے۔اور یہ آخری حصہ کی حدیث صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔سو وہ سواری ریل ہے جو پیدا ہوگئی۔‘ ( تذکرۃ الشہادتین صفحہ ۲۲) (677)