تفہیماتِ ربانیّہ — Page 670
فارسی یا منطق کی چند کتابیں پڑھی ہیں اس لئے وہ نبی نہیں ہو سکتے۔الجواب یہ معیار قرآن مجید یا حدیث صحیح سے ماخوذ نہیں اس لئے قابل تسلیم نہیں۔۲۔نہ یکھنے سے اگر تو وہ امور مراد ہیں جو اُس کی نبوت یا روحانیت سے تعلق رکھتے ہیں تو درست ہے۔اگر دنیاوی علم مراد ہو تو اس کا اس کے دعویٰ نبوت سے عقلاً یا نقلا کیا تعلق ہے؟ ظاہر ہے کہ یہی بات زیادہ مناسب ہے کہ نبی اور مامور جس بات یعنی روحانیت کا دعویدار ہو اس میں اس کا کوئی ظاہری استاد نہ ہو اسی مفہوم کے پیش نظر حضرت فرماتے ہیں دگر استا در انا می ندانم که خواندم در دبستان محمد نیز تحریر فرمایا :- ”یقینا سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسی بن مریم کی طرح اپنے زمانہ میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہرتا۔تب خدا تعالیٰ خود اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا اور اس اپنے بندہ کا نام ابن مریم رکھا۔کیونکہ اس نے مخلوق میں سے اپنی روحانی والدہ کا تو مُنہ دیکھا جس کے ذریعہ سے اس نے قالب اسلام کا پایا لیکن حقیقت اسلام کی اس کو بغیر انسانوں کے ذریعہ کے حاصل ہوئی۔تب وہ وجود روحانی پاکر خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ماسوا سے اس کو موت دے کر اپنی طرف اٹھا لیا۔اور پھر ایمان اور عرفان کے ذریعہ کے ساتھ خلق اللہ کی طرف نازل کیا۔سو وہ ایمان اور عرفان کا ثریا سے دنیا میں تحفہ لایا اور زمین جو سنسان پڑی تھی ، اور تاریک تھی اس کے روشن اور آباد کرنے کے فکر میں لگ گیا۔پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسی بن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد رُوحانی ہے، کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلہ میں یہ داخل ہے؟ پھر اگر یہ ابنِ مریم لے قرآن مجید میں مخصوص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسم والاحی قرار دیا گیا ہے کہ آپ ان پڑھ ہیں۔پس معلوم ہؤا کہ باقی نبی ان پڑھ نہ تھے ورنہ یہ خصوصیت نہیں رہتی۔(مؤلف) (670)