تفہیماتِ ربانیّہ — Page 666
سَأَدْخُلُ مِنْ عِشْقِى بِرَوْضَةِ قَبْرِهِ۔وَمَا تَعْلَمُ هَذَا السِّرِّ يَا تَارِكَ الْهُدَى کہ میں اپنے عشق نبوٹی کے باعث حضور کی برزخی قبر میں حضور کے ساتھ ہوں گا۔اے ہدایت کے ترک کرنے والے تو اس بھید کو نہیں جانتا۔“ (۴) کیا نبی کا نام مفرد ہونالازمی ہے؟ اعتراض۔ہر نبی کا نام مفرد ہوتارہا ہے کسی کا مرکب نام نہ تھا۔مرزا صاحب کا نام مرکب ہے یعنی غلام احمد۔اس لئے آپ نبی نہیں ہو سکتے۔الجواہے۔نبی کا نام مفرد ہونا چاہئے کا قانون قرآن مجید یا کسی حدیث میں ہے؟ ہرگز کہیں نہیں۔پس یہ معیار خود ساختہ ہے یا باالفاظ دیگر قرآن مجید پر تقدم ہے۔معیار وہ ہوتا ہے جسے خدا یا اس کا رسول بیان کرے۔یہ تو محض حضرت مسیح موعود کی معاندت میں تراشا ہو ا معیار ہے۔۲ - نبی تو ایک لاکھ چو میں ہزار ہوئے ہیں آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ ان سب کے نام مفرد ہی تھے کسی کا نام مرکب نہ تھا۔۔حضرت اسمعیل کا نام مرکب ہے۔دراصل سمع ایل دو الگ الگ لفظ ہیں۔جن کے معنی ہیں ' خدا نے سُن لی ابراہیم نام مرکب ہے جس کے معنی نیک لوگوں کا باپ ہے۔ذوالکفل صریح مرکب ہے۔ایسا ہی جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو تولد فرزند کی بشارت دی تو ساتھ ہی بتايا اسمةَ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ( آل عمران رکوع ۵) کہ اس کا نام مسیح عیسی بن مریم ہو گا۔اب یہ نام چارلفظوں سے مرکب بتایا ہے۔اور یہ نام بھی خدا نے رکھا ہے۔تو کیا آپ لوگوں کے اس تراشیدہ قاعدہ کے ماتحت حضرت عیسی ، حضرت اسمعیل اور حضرت ابراہیم کی نبوت کا بھی انکار کر دیا جائے؟ ۲ - حضرت اقدس مسیح موعود کا نام بھی ایک لحاظ سے مفرد ہی ہے۔کیونکہ غلام کا لفظ تو خاندان کے ناموں میں مشترک مجزو ہے حضور کا امتیازی نام احمد ہی ہے۔الہامات میں آپ کو یا کہہ کر خطاب کیا گیا ہے۔پس یہ اعتراض سراسر غلط ہے۔(666)