تفہیماتِ ربانیّہ — Page 629
کے متعلق یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مرتد مذکور نے مورخہ ۸ مئی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس کی وفات کا دن ۴ را گست ۱۹۰۸ء مقرر کر دیا۔اللہ تعالیٰ فرما چکا تھا کہ میں اس کو جھوٹا کروں گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت کا وصال ۴/اگست ۱۹۰۸ء کی بجائے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو ہو گیا۔اور عبدالحکیم کی بات غلط ثابت ہوگئی۔ڈاکٹر عبد الحکیم کی پیشگوئی اتنی واضح طور پر جھوٹی نکلی کہ مولوی ثناء اللہ ایسے معاند کو بھی لکھنا پڑا کہ :- " ہم خدا لگتی کہنے سے رک نہیں سکتے کہ ڈاکٹر صاحب اگر اس پر بس کرتے یعنی چودہ ماہیہ پر۔اور پیشگوئی کر کے مرزا کی موت کی تاریخ مقرر نہ کر دیتے جیسا کہ انہوں نے کیا۔چنانچہ ۱۵ رمئی کے اہلحدیث میں ان کے الہامات درج ہیں کہ ۲۱ ساون یعنی ۴ را گست ۱۹۰۸ ء کو مرزا مرے گا تو آج وہ اعتراض نہ ہوتا جو معزز ایڈیٹر پیسہ اخبار نے ۲۷ / کے روزانہ پیسہ اخبار میں ڈاکٹر صاحب کے اس الہام پر چبھتا ہوا کیا ہے کہ ۲۱ رساون کو کی بجائے ۲۱ رساون تک ہوتا تو خوب ہوتا۔غرض سابقہ پیشگوئی سہ سالہ اور چودہ ماہیہ کو اسی اجمال پر چھوڑے رہتے۔اور ان کے بعد میعاد کے اندر تاریخ کا تقرر نہ کر دیتے ، تو آج یہ اعتراض پیدا نہ ہوتا۔“ اہلحدیث ۱۲ ؍جون ۱۹۰۸ ء صفحہ ۷ ) یہ شہادت جو احمدیت کے بدترین معاند کی ہے، صاف بتارہی ہے کہ ڈاکٹر عبد الحکیم کی پیشگوئی غلط ، جھوٹ اور باطل ثابت ہوئی ہے۔افسوس کہ معترض پٹیالوی ہنوز یہی کہہ رہا ہے کہ حضرت اقدس کا انتقال ڈاکٹر مذکور کی پیشگوئیوں کے مطابق ہوا۔ضروری نوٹ معترض پٹیالوی نے اس جگہ مرتد پٹیالوی کی آخری اور تمام پہلی پیشگوئیوں کی ناسخ یعنی راگست کو والی پیشگوئی کا ذکر نہیں کیا۔جو ایک صریح اور کھلی خیانت ہے۔کیا تحقیق کی یہی راہ ہوا کرتی ہے؟ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اپنی وفات کے قریب ہونے کا اعلان کیا۔جس پر ڈاکٹر مرتد نے اپنے الہامات عنانے شروع کئے۔جب اُس نے چودہ ماہیہ پیشگوئی کی تو اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ السلام کو بتلایا کہ اگر چہ آپ کی موت کا زمانہ آچکا ہے لیکن میں بہر حال (629)