تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 613 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 613

نہیں لکھے گا۔وغیرہ وغیرہ۔یہ اقرار نامہ اسکے اپنے سابقہ فتووں کے پیش نظر اس کی بہت بڑی ذلت تھی اور حضرت کی پیشگوئی کا ثبوت۔اس پر معترض پٹیالوی نے لکھا ہے کہ : مقدمه گورداسپور میں مرزا صاحب اور مولوی صاحب دونوں سے یکساں نمونہ کے اقرار نا محجبات داخل کرائے گئے تھے۔(عشرہ صفحہ ۱۵۸) گویا اس کے نزدیک یہ واقعہ درست ہے۔اب ناظرین غور فرمالیں کہ کیا اس اقرار نامہ میں اس شخص کی ذلت ہے یا نہیں جس نے سارا زور مار کر علماء ہند و پنجاب سے حضرت کو کافر اور دجال لکھوایا تھا کہ وہ اب خود اپنی قلم سے لکھ رہا ہے کہ میں ان کو کا فرود جال نہ کہوں گا۔باقی رہا یہ سوال کہ حضرت نے بھی ایسے اقرار نامہ پر دستخط کئے تھے۔سوظاہر ہے کہ حضرت نے کسی کو کافر یا دجال کہنے میں ابتدا نہیں کی۔ہاں جب ایک شخص نے ابتداء کر کے اپنے کفریا دجالیت کا ثبوت دے دیا اور ایسا کہنے کی ضرورت بھی پیش آئی، تو حضرت نے اس کے فتوی کو دُہراتے ہوئے ایسا کہا تھا۔اس لئے حضرت کا ایسا اقرار حضور کے مشن کے خلاف نہ تھا۔اور وحی الہی کے ایماء کے ماتحت حضور کو آئندہ موت وغیرہ کی پیشگوئیوں کے متعلق یہی ہدایت تھی۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :- ہاں اگر یہ اعتراض ہو کہ ہمیں بھی آئندہ موت اور ذلت کی پیشگوئی کرنے سے روکا گیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ہماری کاروائی خود اس وقت سے پہلے ختم ہو چکی تھی کہ جب ڈوئی صاحب کے نوٹس میں ایسا لکھا گیا۔(اشتہار ” ایک عظیم الشان پیشگوئی کا پورا ہونا ) پس اقرار نامہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دستخط کرنا مولوی محمد حسین بٹالوی کی اخلاقی ذلت کو بچھپا نہیں سکتا۔چوتھی ذلّت اس متذکرہ صدر مقدمہ میں جس کا ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو فیصلہ ہوا۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے حضرت اقدس کے متعلق Discharged ) ڈسچارج کا لفظ لکھا تھا۔یعنی حضور کو بری کیا گیا۔مگر مولوی محمد حسین نے یہ دعویٰ کر کے کہ اس کا ترجمه بری کرنا نہیں ہے اپنی پردہ دری کرائی اور ذلیل ہوا۔یہ ذلت بھی اس کے (613)