تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 609 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 609

ناظرین کرام ! بفضلہ تعالیٰ ہم نے ہر طرح سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت اقدس کی یہ پیش گوئی بھی دیگر شرطی پیشگوئیوں کی طرح اپنی شرائط کے مطابق پوری ہو چکی ہے اور حضرت کی صداقت کا ایک زبر دست نشان ہے۔وھو المطلوب۔مولوی محمدسین بٹالوی کی ذلت کی پیشگوئی پانچویں نمبر پر معترض پٹیالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کا ایک اقتباس دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ :- د اگر تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے، تو میں عاجزی سے دُعا کرتا ہوں کہ ان ۱۳ مبینوں میں شیخ محمد حسین ، جعفر زٹلی ، اور نیتی مذکور کو ذلت کی مار سے دنیا میں رُسوا کر ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ اللَّله کا مصداق کر۔(عشرہ صفحہ ۱۵۷) اگر چہ اشتہار مذکور میں یہ الفاظ بعینہ موجود نہیں ہیں لیکن یہ درست ہے کہ اس اشتہار میں حضرت اقدس نے ان تینوں کو ایک فریق قرار دے کر جس کی عزت و ذلت مولوی محمد حسین کی عزت وذلت پر موقوف تھی ، یہ الہام اور دُعا شائع کی ہے کہ اُن پر ۱۵۔دسمبر ۱۸۹۸ء سے ۱۵۔جنوری ۱۹۰۰ء تک ذلت“ پڑے۔چنانچہ وہ ذلت کی سخت مار پڑگئی۔پٹیالوی صاحب کا یہ لکھنا کہ میعاد گزرگئی اور میرزا صاحب کے یہ تینوں مخالفین بفضلہ تعالی بخیر وعافیت“ رہے۔سخت مغالطہ رہی ہے۔جب پیشگوئی ہی موت کی نہ تھی ، بلکہ ذلت کی تھی۔تو پھر ” بخیر وعافیت“ رہنے کا کیا ذکر ؟ کہنا تو یہ چاہئے تھا کہ اس فریق پر کوئی ذلت نہیں پڑی۔مگر یہ بات معترض بھی نہیں کہہ سکتا تھا۔اب ہم اس پیشگوئی کی صداقت کے اثبات کے لئے مختصر امولو محمدحسین کی پانچ وکتوں کا ذکر کرتے ہیں۔پہلی ذلّت مولوی محمد حسین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف علماء ہند سے فتویٰ لے کر آپ کو ذلیل کرنا چاہا تھا۔وہ لوگ چونکہ پہلے سے ہی حضرت اقدس کے مخالف تھے اس لئے اُن کے فتویٰ سے ہمارے حضرت پر تو کوئی زدہ نہیں پڑ سکتی تھی۔ہاں مولوی محمد حسین صاحب کی ذلت کا (609)