تفہیماتِ ربانیّہ — Page 608
اپنی جہالت کا مظاہرہ کرنا ہے۔البتہ محمدی بیگم کے حضرت کے نکاح میں آنے کے لئے جو شرط تھی یعنی سلطان محمد کی موت۔وہ چونکہ واقع نہ ہوئی۔لہذا وہ نکاح وقوع پذیر نہ ہوا۔فاندفع الاشكال - الہام میں سلطان محمد کی عدم موت کا ذکر اس وعیدی پیشگوئی کا آخری انجام جو الہاماً بتایا جاچکا تھا وہ ان لفظوں میں مذکور ہے۔يَمُوتُ وَيَبْقَى مِنْهُ كِلَابُ مُتَعَدِّدَةٌ - تمر اشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء) سب جانتے ہیں کہ یموت واحد کا صیغہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص مرے گا۔اور اُس کی طرف سے سکتے باقی رہ جائیں گے۔یعنی موت صرف احمد بیگ کی ہوگی۔یہی مقدر تھا۔گو یا الہام میں سلطان محمد کے شرط وعید سے فائدہ اُٹھانے کا اشارہ کیا گیا تھا۔جسے واقعات نے کھول دیا ہے۔پیشگوئی کے ان الفاظ پر غور کرنے سے بہت سے حقائق سامنے آجاتے ہیں۔مخالفین کی مخالفت کا پہلے سے ذکر موجود ہے۔اس پیش گوئی کے قیمتی ثمرات ذیل میں میں اُن لوگوں کے نام درج کرتا ہوں جو اس پیشگوئی کے متعلقین میں سے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو چکے ہیں :- (۱) مرزا احمد بیگ کی اہلیہ صاحبہ (۲) مرزا محمد بیگ صاحب پسر مرزا احمد بیگ (۳) عنایت بیگم صاحبه دختر مرزا احمد بیگ (۴) سردار بیگم صاحبه دختر مرزا احمد بیگ (۵) مرزا محمد احسن بیگ د اما دمرزا احمد بیگ (1) مرزا محمود بیگ پوتا مرزا احمد بیگ (۷) دختر مرزا نظام الدین۔اہلیہ صاحبہ مرزا سلطان احمد صاحب رئیس (۸) مرزا گل محمد صاحب پسر مرز انظام الدین صاحب (۹) اہلیہ مرز اغلام قادر صاحب (۱۰) محمود بیگم صاحبه دختر مرزا احمد بیگ۔ان لوگوں کا احمدیت کی حلقہ بگوشی کو قبول کر لینا ایک متدین انسان کی نگاہ میں حضرت اقدس کی صداقت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ہمارے مخالفین کو ذرا تدبر سے کام لینا چاہئے کہ یہ کیا بات ہے کہ جن لوگوں ، اور جس خاندان کے متعلق یہ پیشگوئی ہے وہ تو احمدی ہو گئے۔اور معترضین ابھی تک اعتراض ہی کر رہے ہیں۔(608)