تفہیماتِ ربانیّہ — Page 606
اس خط میں لکھا ہوا ہے کہ میں پہلے بھی حضرت مرزا صاحب کو نیک اور بزرگ سمجھتا تھا۔چنانچہ اُس کا وہ تفصیلی بیان بھی جو اس نے ہمارے محترم دوست جناب حافظ جمال احمد صاحب مبلغ ماریشیس لہ کے سامنے پٹی میں دیا تھا، اس پر شاہد ہے۔جس میں اس نے کہا ہے :- میں قسمیہ کہتا ہوں کہ جو ایمان اور اعتقاد مجھے حضرت مرزا صاحب پر ہے۔میرا خیال ہے کہ آپ کو بھی جو بیعت کر چکے ہیں اتنا نہیں ہوگا۔میرے دل کی حالت کا آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے وقت آریوں نے لیکھرام کی وجہ سے ، اور عیسائیوں نے آتھم کی وجہ سے، مجھے لاکھ لاکھ روپیہ دینا چاہا، تا میں کسی طرح مرزا صاحب پر نالش کروں۔اور وہ روپیہ میں لیتا، تو امیر کبیر بن سکتا تھا۔مگر وہی ایمان اور اعتقاد تھا جس نے مجھے اس فعل سے روکا۔“ (الفضل ۱۳ / ۹ جون ۱۹۲۱ء) پس مرزا سلطان محمد صاحب کار مجوع واضح اور بین ہے۔لہذا اس اہم پیشگوئی کے کسی حصے پر بھی اعتراض پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ بصیرت کی نظر سے دیکھنے والوں کے لئے یہ صداقت حضرت احمد پر ایک واضح دلیل ہے۔نکاح فسخ ہو گیا، یا تاخیر میں پڑ گیا سید نا حضرت مسیح موعو علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے :- موعوعلیہ ” جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کردیا اور داماد احمد بیگ پر خوف طاری ہو گیا اور اُس نے توبہ کی تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“ تحقیق صفحه ۱۱۵ بحوالہ تمہ حقیقة الوحی ) اس فقرہ پر عام معاندین تمسخر کیا کرتے ہیں کہ اس میں دو رنگی ہے۔حالانکہ بات یہ ہے کہ حضرت اقدس نے انجام آتھم صفحہ ۳۲ پر چیلنج کیا تھا کہ سلطان محمد سے تکذیب کا طبع ثانی کے وقت حضرت حافظ صاحب فوت ہو چکے ہیں۔انہوں نے تبلیغ اسلام کرتے ہوئے غریب الوطنی میں ماریشیس میں ہی وفات پائی۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔بڑے مخلص دوست اور نیک بزرگ تھے۔اللہ تعالٰی بلند درجات عطا فرمائے۔آمین۔( ابو العطاء) (606)