تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 597 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 597

احمد بیگ والد محمدی بیگم کی نسبت پیشگوئی تھی کہ تین سال تک فوت ہوگا۔جو چھ ماہ بعد مر گیا۔(تحقیق صفحہ ۳۷) گویا پیشگوئی کا پہلا حصہ نہایت صاف اور واضح طور پر پورا ہوا۔جس پر منکرین کو بھی گنجائش انکار نہیں بجز اس کے کہ وہ اسے سحر یا نجوم سے تعبیر کریں۔چنانچہ مکفر بٹالوی نے انہی دنوں رسالہ اشاعۃ السنۃ میں لکھا تھا کہ : اگر چہ یہ پیشگوئی تو پوری ہوگئی۔مگر یہ الہام سے نہیں بلکہ علم رمل یا نجوم وغیرہ سے کی گئی۔( منقول از اشتہار ۶ - ستمبر ۱۸۹۴ء) مرزا احمد بیگ کی موت تو چھٹے مہینے میں واقع ہوئی۔مگر دراصل نکاح کے فورا بعد ہی اس خاندان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔خود محمدی بیگم کی نانی اور دو چچیاں مرگئیں۔تحقیق صفحه (۱۵) لیکن احمد بیگ کی موت نے تو ان کی کمر بالکل توڑ دی۔چنانچہ انہوں نے حضرت کو عجز و نیاز کے خطوط لکھے اور تو بہ اور رجوع سے کام لیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس پیشگوئی کا دوسرا حصہ (سلطان محمد کی موت ) معرض التواء میں پڑ گیا۔اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ جب تک سلطان محمد کی موت واقع نہ ہو لیتی محمدی بیگم کا حضرت کے نکاح میں آنا نہ پیشگوئی کا منشاء ہے، نہ حضرت نے ایسا لکھا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہوا کہ پیشگوئی کے تین بڑے حصے تھے۔(۱) احمد بیگ کی موت۔(۲) سلطان محمد کی موت۔(۳) محمدی بیگم کا نکاح۔آخر الذکر مرحلہ ان دونوں واقعات کے بعد اور ان پر موقوف ہے۔اس لئے جب تک دونوں موتیں واقع نہ ہو جا ئیں محمدی بیگم کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نکاح میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پھر ظاہر ہے کہ ان دونوں کی موت عدم تو بہ کی شرط سے مشروط تھی۔جیسا کہ ہم باتفصیل لکھ چکے ہیں۔مرزا احمد بیگ نے خوف سے کام نہ لیا۔اس لئے وہ بہت جلد موت کے منہ میں چلا گیا۔اُس کی موت نے طبعی طور پر سلطان محمد اور دوسرے لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔اس لئے سلطان محمد کی موت ملتوی ہو گئی جیسا کہ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔(597)