تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 596 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 596

نہیں آسکتی۔”سب روکوں کے ہٹا دینے کی بھی تعین ہوگئی۔یعنی جب یہ دونوں مر جائیں گے پھر کوئی روکنے والا نہ ہوگا۔( ج ) ہمارے اس دعویٰ کی تصدیق مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی کی ہے۔ان کے الفاظ حسب ذیل ہیں :۔(۱) ان میں سے مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت اور اس کی لڑکی کے نکاح والی پیشگوئی مسلمانوں سے خاص تعلق رکھتی ہے۔(رسالہ نکاح مرز اصفحہ ۳) (۲) پہلی پیشگوئی متعلقہ موت مرزا سلطان محمد دراصل تمھید تھی۔اصل پیشگوئی نکاح منکوحہ سے متعلق تھی۔(رسالہ تاریخ مرزا صفحه ۳۲) (۳) ' ایک اور صاحب (سلطان محمد ) بھی جن کی موت کے بعد مرزا صاحب نے انکی بیوی سے نکاح کرنا تھا۔جس کی مدت حسب شهادة القرآن مرزا صاحب ۲۰ اگست ۱۸۶۳ ء کو پوری ہو گئی ہے۔نہیں مرے “ (رسالہ الہامات مرزا صفحه ۲۸ طبع ششم) مولوی صاحب کی ہرستہ عبارتیں نہایت واضح ہیں۔بالخصوص آخری اقتباس میں تو صاف اقرار ہے کہ حضرت کا نکاح محمدی بیگم سے نہیں ہوا تھا۔بلکہ سلطان محمد کی موت کے بعد ہونا تھا۔ع حق بر زبان جاری ناظرین کرام !ہم اختصار کلام کی خاطر ان تین ثبوتوں پر ہی اکتفاء کرتے ہیں۔بہر حال یہ امر ثابت ہے کہ مسماۃ محمدی بیگم کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نکاح میں آنا ان دونوں کی موت کے بعد تھا۔اور یہی پیشگوئی کے الفاظ میں ہے اور یہی حضرت نے رقم فرمایا۔اور دشمنان احمدیت کو بھی یہی مسلم ہے۔وھو المراد۔واقعات آئیے اب واقعات پر نظر کریں۔سو مرزا احمد بیگ اور اُس کے اقارب نے اس پیشگوئی کو سُن کر بجائے خشیت الہی اختیار کرنے کے اور بھی سرکشی اختیار کر لی۔اور یہ رشتہ بھی ۷ را پریل ۱۸۹۲ء کودوسری جگہ کر دیا۔( تحقیق تصفحہ ۱۰۲) اس نکاح کے بعد پیشگوئی کے مطابق احمد بیگ کو تین سال بلکہ قریب عرصہ میں مرجانا چاہئے تھا چنا نچہ وہ چھٹے مہینے ہی مر گیا۔معترض پٹیا لوی لکھتا ہے :- ۶۳ نہیں ، ۱۸۹۴ ء چاہئے تھا۔مؤلف (596)