تفہیماتِ ربانیّہ — Page 570
شخص ظلم و تعدی میں حد سے بڑھ جاتا ہے اور اپنی سرکشی و طغیانی کے ذریعہ فتنہ برپا کر دیتا ہے۔چنانچہ امام فخرالدین رازی آیت فَأَخَذَهُمُ الطَّوْفَانُ وَهُمْ ظَالِمُوْنَ (عنکبوت) کی تفسیر میں لکھتے ہیں :- فِيْهِ إِشَارَةٌ إِلى لَطِيفَةٍ وَهِيَ انَّ اللهَ لَا يُعَذِّبُ عَلَى مُجَرَّدِ وُجُودِ الظُّلْمِ وَإِلَّا لَعَذَّبَ مَنْ ظَلَمَ وَتَابَ فَإِنَّ الظُّلُمَ وُجِدَ مِنْهُ وَإِنَّمَا يُعَذِّبُ عَلَى الْإِصْرَارِ عَلَى الظُّلُم۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۶ صفحه ۶۵۱) یعنی اللہ تعالیٰ اِس دنیا میں صرف ظلم پر اصرار کرنے پر عذاب دیتا ہے۔اب جس طرح حقیقی ایمان لانا اس کے جرم اور بناء پیشگوئی کی مستقل تلافی کر دیتا ہے۔اسی طرح عارضی وقتی ایمان بھی اس شرارت کا ایک حد تک سد باب کر دیتا ہے۔آیت وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ بھی اس جگہ زیر غور رہے کہ اللہ تعالیٰ استغفار کرنے والے کفار کو بھی عذاب نہیں دیتا۔اس لئے پہلی صورت میں اس کو مستقل فائدہ پہنچتا ہے۔اور دوسری صورت میں بھی عارضی فائدہ ( عذاب دنیا سے بچ جانا ضرور حاصل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرعونیوں کے ذکر میں فرماتا ہے کہ جب ان ر عذاب آتا تھا۔تو حضرت موسیٰ سے کہتے تھے یایہا السَّحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ کہ اے جادو گر ! ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر ہم ہدایت پائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنْكُثُونَ (زخرف رکوع (۵) کہ جب ہم اُن سے عذاب دُور کر دیتے ہیں تو وہ اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں۔“ فرعونیوں نے اس طرح آٹھ نو دفعہ جھوٹے وعدے کئے اور جعلی رجوع کا اظہار کیا۔مگر ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ اُن سے عذاب ٹالتا رہا۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس کی سنت ہے کہ وہ ادنے رجوع کا بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔سورۃ الدخان میں فرمایا ہے کہ عذاب دخان کے وقت کفار درخواست کریں گے رَبَّنَا اكْشِفَ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ۔اے خدا! اس عذاب کو ٹال دے۔ہم ایمان لے آئیں گے۔فرمایا إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إنَّكُمْ عَابِدُونَ ( دخان رکوع ۱ ) ہم عذاب تو ضرور کچھ عرصہ کے لئے ٹال دیں گے۔مگر یہ (570)