تفہیماتِ ربانیّہ — Page 569
پہلی صورت کی مثال میں قرآن پاک نے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کو پیش فرمایا ہے فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيْمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا امَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الخزي في الحيوةِ الدُّنْيَا وَمَتَعْلَهُمُ إلى حِينٍ (يونس ركوع (۱۰) کیوں نہ بستیوں کے لوگ ایسے ہوئے کہ وہ ایمان لے آتے تا اُن کا ایمان اُن کو نفع دیتا۔بجز قوم یونس کے۔وہ جب ایمان لائے تو ہم نے اُن سے دُنیا کی زندگی میں رسوا کن عذاب دُور کر کے ان کو ایک عرصہ تک فائدہ پہنچایا۔حضرت یونس علیہ السلام کی پیشگوئی کے متعلق ہم گذشتہ اوراق میں بحث کر چکے ہیں۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی لکھا ہے :- رُوِيَ أَنَّ يُونُسَ وَعَدَهُمُ الْعَذَابَ وَتَعَابَ عَنْهُمْ ( تفسير القرآن صفحه ۲۰۴) که حضرت یونس نے اپنی قوم کو عذاب کی پیشگوئی بتلائی اور اُن کے پاس سے چلے گئے۔“ پھر بطور عقیدہ وواقعہ یہی مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ : ہم مانتے ہیں کہ انذاری عذاب نہ صرف ملتوی ہو جاتا ہے بلکہ مرفوع بھی ہو جاتا ہے۔۔۔حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹل گیا۔لیکن کب ملا؟ جب وہ ایمان لے آئے۔“ (رسالہ الہامات صفحه ۱۴-۱۵ حاشیه ) معترض نے لکھا ہے :- و نص قرآنی سے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا ایمان لانا اور اس ایمان لانے سے ہی عذاب کا ان سے ہٹایا جانا ثابت ہے۔( تحقیق صفحہ ۱۳۴) عارضی اور ناقص ایمان کی مثال بہت سے نادان بغرض مغالطہ وہی کہا کرتے ہیں کہ حقیقی ایمان سے تو عذاب ٹل جاتا ہے اور اس سے وعیدی پیشگوئی کی صداقت میں کوئی رخنہ واقع نہیں ہوتا۔لیکن عارضی اور ناقص ایمان سے عذاب نہیں مل سکتا۔اور اگر ایسی صورت میں بھی عذاب ٹل جاوے تو پیش گوئی کا کا ذب ہونا لازمی ہے۔سو یادر ہے کہ چونکہ ایمان اور کفر کی سزائے کامل کے لئے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن مقرر کیا ہے، یہ دُنیا دار العمل ہے۔اس لئے اس جگہ سزا ، عذاب اور وعید صرف اُسی بناء پر مترتب ہوتا ہے کہ وہ (569)