تفہیماتِ ربانیّہ — Page 546
کو لکھے اور اس رشتہ کے لئے کوشش کی۔گویا الہامی وعدہ کے بعد کوشش خلاف تو کل ہے۔الجواب - الہی وعدہ کے باوجود بھی کوشش کرنا توکل کے مخالف نہیں۔ہاں اپنی تدبیر اور کوشش کو کارگر اور اصل ذریعہ کامیابی سمجھنا تو گل کے منافی ہے۔اسلام کا توکل یہی ہے کہ تم ساری تدبیروں سے کام لوگر نتیجہ پھر خدا کے فضل سے سمجھو، نہ اپنی تدبیر سے۔ور نہ کیا جب نبیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح، کامیابی اور غلبہ کے وعدے مل جاتے ہیں تو وہ تبلیغ بند کر دیتے ہیں یا جنگ کے لئے سامان نہیں کرتے ؟ ایک طرف اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح کی بشارت دیتا ہے اور دوسری طرف وَاعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ کا بھی حکم دیتا ہے۔معلوم ہو امحض کوشش تو گل کے خلاف نہیں بلکہ یہ مین تو کل ہے۔حضرت موسیٰ کی قوم نے جب گنعان میں مقابلہ سے انکار کیا تو انہیں کہا گیا اُدْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَلِبُونَ وَعَلَى اللهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ (مائده رکوع ۴) یعنی تم ان پر داخل ہو جاؤ، مقابلہ کرو تم ہی غالب رہو گے۔اللہ پر توکل کرو، اگر تم مومن ہو۔معلوم ہوا کہ وعدہ الہی ، مومنوں کی کوشش ، اور پھر تو کل ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ان کو ایک دوسرے کے مخالف سمجھنا غلطی ہے۔پھر دیکھئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا ( ہو در کوع ۱ ) کہ ہر جاندار کا رزق مجھ پر ہے۔تو کیا اب منشی محمد یعقوب کو گرداوری وغیرہ کر کے روزی وغیرہ کمانے کی ضرورت نہ ہوگی، اور کیا کام کرنا اس وعدہ کے تحت تو کل کے خلاف ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متذکرہ بالا اعتراض کے جواب میں تحریر فرمایا ہے :۔افسوس کہ یہ لوگ خدا سے نہیں ڈرتے۔انبار در انباران کے دامن لے یعنی کفار کے لئے پوری طاقت اور گھوڑوں کی مضبوطی و مرابطت سے تیاری کرو۔(انفال رکوع ۸) (546)