تفہیماتِ ربانیّہ — Page 514
تھی۔ہمارے حضرت نے تو اپنے رسالہ فتح مسیح میں صاف تحریر فرما دیا ہے :- (الف) " ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شان مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح (پادری) کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے۔کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دُکھایا ہے۔“ (صفحہ ۱) (ب) " ہم اس بچے مسیح کو مقدس اور بزرگ اور پاک جانتے اور مانتے ہیں جس نے نہ خدائی کا دعویٰ کیا ، نہ بیٹا ہونے کا۔اور جناب محمد مصطفے احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خبر دی اور اُن پر ایمان لایا۔“ (صفحہ ۱۳) حضرت مسیح کی بن باپ ولادت سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بکثرت تحریر فرمایا ہے کہ حضرت مسیح بغیر باپ کے محض قدرت الہیہ سے پیدا ہوئے۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں :- (الف) " أَرَادَ اللهُ أَنْ يَقْطَعَ دَابِرَ هُمْ وَيُجِيعَ بُنْيَانَهُمْ وَيُحْكِمَ ذِلَّتَهُمْ وَخِذُلَانَهُمْ فَاوَّلُ مَا فَعَلَ لِهَذِهِ الْإِرَادَةِ هُوَ خَلْقُ عِيسَى مِنْ غَيْرِ آبِ بِالْقُدْرَةِ الْمُجَرَّدَةِ فَكَانَ عِيسَى اِرْهَاصَّالِنَبِينَا۔“ (مواهب الرحمن صفحه ۷۲) 66 ترجمہ - اللہ نے ارادہ کیا کہ یہود کی جڑھ کاٹ دے اور اُن کی ذلت ورسوائی کو پختہ کرے سو اُس نے اس کے لئے پہلی بات یہ کی کہ حضرت عیسی کو بغیر باپ محض قدرت سے پیدا کیا۔پس حضرت عیسی ہمارے نبی کے لئے ارباص تھے۔“ (ب) وَكَذَ الكَ تَوَلَّهُ عِيسَى مِنْ دُونِ الْآبِ (مواہب الرحمن صفحہ ۷۶ ) ترجمہ۔اسی طرح حضرت عیسٰی کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی۔“ - پھر حضور اسی جگہ تحریر فرماتے ہیں :- (514)