تفہیماتِ ربانیّہ — Page 510
غیوں اور نشانوں کا دروازہ کھولا گیا۔اے نادانو! تم کفر کہو ، یا کچھ کہو۔تمہاری تکفیر کی اس شخص کو کیا پرواہ ہے جو خدا کے حکم کے موافق دین کی خدمت میں مشغول ہے اور اپنے پر خدا کی عنایات کو بارش کی طرح دیکھتا ہے۔وہ خدا جو مریم کے بیٹے کے دل پر اتر اتھا وہی میرے دل پر بھی اُترا ہے مگر اپنی تجلی میں اس سے زیادہ۔وہ بھی بشر تھا اور میں بھی بشر ہوں۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۷۴) الزامی جوابات میں علماء اہلسنت کے دس حوالے جناب مولوی آل حسن صاحب اپنی کتاب استفسار میں لکھتے ہیں :- (1) حضرت عیسی نے کونسا مرتبہ درشت گوئی کا اُٹھا رکھا جو یہودیوں کے خطاب میں ان کی کفریات پر نہیں کیا۔(استفسار صفحہ ۴۱۷) (۲) حضرت عیسی کا معجزہ احیائے میت کا بعضے بھان متی کرتے پھرتے ہیں کہ ایک آدمی کا سرکاٹ ڈالا بعد اس کے سب کے سامنے دھڑ سے ملا کر کہا اُٹھ کھڑا ار صفحه ۳۳۶) ہو وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔(۳) اشعیا اور ارمیا اور عیسی علیہم السلام کی سی غیب گوئیاں قواعد نجوم اور ریل سے بخوبی نکل سکتی ہیں۔بلکہ اس سے بہتر (در صفحه ۳۳۶) (۴) کلیہ یہ بات ہے کہ اکثر پیشگوئیاں انبیائے بنی اسرائیل اور حواریوں کی ایسی ہی ہیں جیسے خواب اور مجذوبوں کی بڑ“ ( صفحہ ۱۳۳) (۵) یسوع نے کہا کہ لومڑیوں کے لئے گھر ہیں اور پرندوں کے لئے بسیرے ہیں۔پر میرے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔دیکھو یہ شاعرانہ مبالغہ ہے اور صریح دنیا کی تنگی سے شکایت کرنا کہ افتح ترین ہے۔“ (ار صفحہ ۳۴۹) (1) حضرت عیسی ایک انجیر کے درخت پر ،صرف اس جہت سے کہ اس میں پھل نہ تھا ، خفا ہوئے۔پس جمادات پر خفا ہونا عقلاً کمال جہالت (510)