تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 509 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 509

ترجمہ۔ہم نے یہ سب باتیں از روئے اناجیل بطور الزام خصم لکھی ہیں۔ورنہ ہم تو مسیح کی عزت کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ پارسا اور برگزیدہ نبیوں میں سے تھے۔“ گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ لکھا وہ محض تورات وانا جیل کے بیانات کی بناء پر ، عیسائی مسلمات کے مطابق لکھا۔لیکن وہ بھی کب؟ جب اس ناپاک گروہ نے تمام معصوموں کے سردار اور پاکیزگی کے مجسمہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نا قابل برداشت اتہام باند ھے۔بھائیو! کیا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی (علیہ السلام) کا یہی جرم ہے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے لئے غیرت دینی کے باعث نصاری کے سامنے ان کے مسلمات کو ذکر کر دیا؟ کیا تم اسی بناء پر شور مچارہے ہو؟ ويل لكم ولما تكتبون۔اے کاش تم میں سيِّدنا و حبيبنا محمد عربی صلے اللہ علیہ وسلم کی معرفت اور محبت ہوتی تو جانتے کہ وہ کس قدر قیمتی ہیرا ہے۔اس کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے زندہ رکھا اور اس کا فیضان امتوں کی نجات کا ذریعہ ہوگا۔بیشک تم کو تعصب نے اندھا کر دیا ہے لیکن ذرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ، پُر ہیبت الفاظ اور رعب و شوکت سے لبریز الفاظ کو تو پڑھو۔فرمایا :- ” اب کوئی پادری تو میرے سامنے لاؤ جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی پیش گوئی نہیں کی۔یاد رکھو کہ وہ زمانہ مجھ سے پہلے ہی گزر گیا۔اب وہ زمانہ آ گیا جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی جس کو گالیاں دی گئیں ، جس کے نام کی بے عزتی کی گئی، جس کی تکذیب میں بدقسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتا بیں اس زمانہ میں لکھ کر شائع کر دیں۔وہی سچا اور بچوں کا سردار ہے اس کے قبول میں حد سے زیادہ انکار کیا گیا۔مگر آخر اسی رسول کو تاج عزت پہنایا گیا۔اس کے غلاموں اور خادموں میں سے ایک میں ہوں۔جس سے خدا مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے اور جس پر خدا کے 509