تفہیماتِ ربانیّہ — Page 508
شخص یسوع نام کو مانتے ہیں جس کا قرآن میں ذکر نہیں۔اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کو بٹ مار وغیرہ ناموں سے یاد کرتا تھا۔یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت مکذب تھا۔اور اس نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔سو آپ خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لئے ہمیں تعلیم نہیں دی۔“ ( آریہ دھرم ٹائیٹل پیج آخری ) ایک تیسری جگہ فرمایا :- " ہمیں پادریوں کے یسوع اور اُس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔انہوں نے ناحق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑ اسا حال ان پر ظاہر کریں۔چنانچہ اس پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوزانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ اور بہت گالیاں دی ہیں۔پس اسی طرح اس مُردار اور خبیث فرقہ نے جو مردہ پرست ہے ہمیں اس بات کے لئے مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں۔( ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ صفحہ ۸) ان بیانات سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پادریوں کی ان گالیوں، بدزبانیوں ، اور ایذا رسانیوں سے تنگ آکر ، جو وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اختیار کر رہے تھے ، یسوع کے متعلق عیسائیوں کے اپنے خیالات یا ان کے مسلمات کو پیش کر دیا ہے تا وہ اپنی اس ناپاک روش سے باز آجائیں۔حضرت نے یسوع کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس کے متعلق صاف فرما دیا ہے :- هذَا مَا كَتَبْنَا مِنَ الْآنَاجِيْلِ عَلَى سَبِيْلِ الْأَلْزَامِ وَإِنَّا نُكْرِمُ الْمَسِيحَ وَنَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ تَقِيَّا وَمِنَ الْأَنْبِيَاءِ الْكِرَامِ “ (ترغيب المؤمنين صفحه ۱۹ ما 508