تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 493 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 493

صحیحہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔صرف بیہودہ اور بے اصل اور متناقض روایات پر اس کی بنیاد معلوم ہوتی ہے مگر اس فلسفی الطبع زمانہ میں جو عقلی شائستگی اور ذہنی تیزی اپنے ساتھ رکھتا ہے ایسے عقیدوں کے ساتھ دینی کامیابی کی امید رکھنا ایک بڑی بھاری ا غلطی ہے۔الخ (ازالہ اوہام طبع اول صفحہ ۲۶۸ طبع سوم صفحه ۱۱۰) معزز قارئین! خدا را بتلائیں کہ کیا یہ حوالہ قرآنی تعلیم اور دینی کامیابی کے متعلق ہے یا صرف حیات مسیح بجسده العنصری کے خلاف عقل ہونے کی تصریح پر دال ہے؟ معترض پٹیالوی نے ایسا شرمناک دھو کہ دیگر آسمانی لعنت کو خریدا ہے۔بہتر ہے کہ وہ اب بھی تو بہ کر لے۔ہم بلا خوف تردید کہہ سکتے ہیں اور واقعات اس کے شاہد ہیں کہ عیسائیت کے ہمہ گیر جال سے بچاؤ کا حربہ قرآنی تعلیم کے ماتحت محض وفات مسیح کا عقیدہ ہے۔یہی وہ مسئلہ ہے جو کفارہ کے زہریلے مادہ کا تریاق اور الوہیت مسیح کے مسموم پروپیگنڈا کا واحد علاج ہے۔بخدا آج اسلام کی زندگی، عیسائیت پر غلبہ، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری مسیح ناصرٹی کی موت پر منحصر ہے۔حیات مسیح کا عقیدہ رکھ کر تم ہرگز نصاری پر غالب نہیں آسکتے۔قرآن مجید اس کے مخالف ہے، احادیث اس کے خلاف ہیں۔افسوس تم پر جو حضرت خیر البشر کے نام لیوا ہوکر عیسائیوں کے ہمنوا بن رہے ہو۔نعم ما قال المسيح الموعوده ہمہ عیسائیاں را از مقال خود مدد دادند دلیری با پدید آمد پرستاران میت را مسیح ناصری را تا قیامت زنده می فهمند مگر مدفون میثرب را ندادند این فضیلت را فقره چهارم " قرآن وحدیث پر مرزا صاحب کا ایمان اس فقرہ میں معترض پٹیالوی نے چند نہایت بھونڈے اعتراض کئے ہیں۔ہم ان کا ذکر کرنے سے پہلے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ میں حضور کا اس بارہ میں اعتقاد درج کرتے ہیں۔حضور نے تحریر فرمایا ہے :- (493)