تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 482 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 482

ب وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُونَ (سوره صافات رکوع ۵ پس اصل بات یہ ہے کہ جس طرح آفتاب اپنے مقام پر ہے اور اس کی گرمی و روشنی زمین پر پھیل کر اپنے خواص کے مطابق زمین کی ہر ایک چیز کو فائدہ پہنچاتی ہے اسی طرح روحانیات سماویہ خواہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ کہیں یا دسا تیر اور وید کی اصطلاحات کے موافق ارواح کواکب سے ان کو نامزد کریں یا نہایت سید ھے اور موحدانہ طریق سے ملائکتہ اللہ کا ان کو لقب دیں در حقیقت یہ عجیب مخلوقات اپنے اپنے مقام میں مستقر اور قرار گیر ہے اور بحکمت کا ملہ خداوند تعالیٰ زمین کی ہر ایک مستعد چیز کو اس کے کمال مطلوب تک پہنچانے کے لئے یہ روحانیات خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔ظاہری خدمات بھی بجالاتے ہیں اور باطنی بھی۔( توضیح المرام صفحہ ۳۱-۳۲) (ج) محققین اہل اسلام ہرگز اس بات کے قائل نہیں کہ ملائک اپنے تشخصی وجود کے ساتھ انسانوں کی طرح پیروں سے چل کر زمین پر اترتے ہیں۔اور یہ خیال بہداہت باطل بھی ہے۔( توضیح مرام صفحہ ۲۹) (3) اس میں کچھ شک نہیں کہ بوجہ مناسبت نوری وہ نفوس طیبہ ان روشن اور نورانی ستاروں سے تعلق رکھتے ہوں گے کہ جو آسمانوں میں پائے جاتے ہیں۔مگر اس تعلق کو ایسا نہیں سمجھنا چاہئے کہ جیسے زمین کا ہر ایک جاندار اپنے اندر جان رکھتا ہے۔“ ( توضیح مرام صفحه ۳۷) (482)