تفہیماتِ ربانیّہ — Page 466
سکہ کے روپیہ اور دونیاں اور چونیاں اور اٹھنیاں اپنی جیبوں اور گھروں میں سے کیوں باہر نہیں پھینکتے۔کیا ان سکوں پر تصویریں نہیں ؟ افسوس کہ یہ لوگ ناحق خلاف معقول باتیں کر کے مخالفوں کو اسلام پر جنسی کا موقع دیتے ہیں۔اسلام نے تمام لغو کام اور ایسے کام جو شرک کے مؤید ہیں حرام کئے ہیں نہ ایسے کام جو انسانی علم کو ترقی دیتے اور امراض کی شناخت کا ذریعہ شہر تے اور اہل فراست کو ہدایت سے قریب کر دیتے ہیں۔لیکن با ایں ہمہ میں ہرگز پسند نہیں کرتا کہ میری جماعت کے لوگ بغیر ایسی ضرورت کے جو کہ مضطر کرتی ہے وہ میرے فوٹو کو عام طور پر شائع کرنا اپنا کسب اور پیشہ بنالیں۔کیونکہ اسی طرح رفتہ رفتہ بدعات پیدا ہو جاتی ہیں اور شرک تک پہنچتی ہیں۔اسلئے میں اپنی جماعت کو اس جگہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ جہاں تک ان کے لئے ممکن ہو ایسے کاموں سے دستکش رہیں۔بعض صاحبوں کے میں نے کارڈ دیکھے ہیں اور ان کی پشت کے کنارہ پر اپنی تصویر دیکھی ہے میں ایسی اشاعت کا سخت مخالف ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی شخص ہماری جماعت میں سے ایسے کام کا مرتکب ہو۔ایک صحیح اور مفید غرض کے لئے کام کرنا اور امر ہے اور ہندوؤں کی طرح جو اپنے بزرگوں کی تصویریں جا بجا در و دیوار پر نصب کرتے ہیں یہ اور بات ہے۔ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے لغو کام منجر بشرک ہو جاتے ہیں۔اور بڑی بڑی خرابیاں ان سے پیدا ہوتی ہیں جیسا کہ ہندؤوں اور نصاریٰ میں پیدا ہوگئیں۔اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ جو شخص میرے نصائح کو عظمت اور عزت کی نظر سے دیکھتا ہے اور میرا سچا پیرو ہے وہ اس حکم کے بعد ایسے کاموں سے دستکش رہے گا۔ورنہ وہ میری ہدایتوں کے برخلاف اپنے تئیں چلاتا ہے اور شریعت کی راہ میں گستاخی سے قدم رکھتا ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۱۹۴-۱۹۵) (466)