تفہیماتِ ربانیّہ — Page 457
ناظرین کرام ! آپ نے دیکھا کہ ربتنا عائج کے کیسے واضح معنے ہیں مگر جن کے دلوں میں کبھی ہوتی ہے وہ غیر واضح مفہوم کو لے کر فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں۔ختبهم الله في سعيهم - ذات باری کی تصویر کے اعتراض کا جواب (۵) قوله ” حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۵ میں لکھتے ہیں :- " پس روحانی طور پر انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں کہ وہ اس قدر صفائی حاصل کرے کہ خدا تعالی کی تصویر اس میں کھینچی جاوے۔“ وو توضیح المرام صفحہ 9ے میں حضرت جبرائیل کی نسبت لکھتے ہیں کہ :- وہ خدا سے سانس کی ہو یا آنکھ کے نور کی طرح نسبت رکھتا ہے اور خدا کی جنبش کے ساتھ ہی وہ بھی جنبش میں آجاتا ہے۔جیسا کہ اصل کی جنبش سے سایہ کا ملنا طبعی طور پر ضروری امر ہے۔تو معا اس کی ایک عکسی تصویر جس کو روح القدس کے نام سے موسوم کرنا چاہئے۔محبت صادق کے دل میں منقش ہو جاتی ہے۔ناظرین ! خدا تعالی کی عکسی تصویر محبت کے دل پر گزشتہ تیرہ سو سال میں مرزا صاحب کے سوائے اور کسی نے کبھی نہیں کھینچی تھی۔مرزا صاحب نے اپنی عکسی تصویر اتروا کر مریدوں میں تقسیم کروائی۔بجائے اس کے اپنے دل پر سے خدا کی تصویر کا عکس کیوں نہ اتر والیا۔تا کہ تمام لوگ اللہ میاں کی زیارت تو ان آنکھوں سے کر لیتے جس سے از ابتدائے آفرینش محروم ہیں۔بچہ بچہ جانتا ہے کہ تصویر ہمیشہ خارجی و مادی وجود کی ہوتی ہے خواہ دستی ہو یا عکسی۔غیر مادی وجود کی تصویر بنانی ناممکن ہے۔جب اللہ کا جسم ہی نہیں تو تصویر کیسی؟ حضرت جبرائیل کو خدا کا سانس یا خدا کی آنکھ کا نور یا خدا کے جسم کا سایہ بتانا اور اس پر اعتقاد رکھنا مرزا صاحب اور ان کی امت کو ہی مبارک ہو مسلمان تو ان مشرکانہ عقائد سے سخت بیزار ہیں۔“ (عشرہ) (457)