تفہیماتِ ربانیّہ — Page 456
نہیں؟ کیا کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ ان کو غیر مفید بتائے یا پھر ان کا علم حاصل کر سکے؟“ پس معترضین کے لئے یہ تو ہر گز گنجائش نہیں کہ وہ عاج کے لفظ کے معنے نہ گھلنے کی وجہ سے اعتراض کریں۔آئیے اب ہم یہ بتائیں کہ عاج کے معنے از روئے لغت کیا ہیں؟ الہام مذکور میں اس کے معنے گوبر یا ہاتھی دانت کرنا کسی بھس بھرے دماغ کا ہی کام ہے! از روئے لغت عاج کے دو معنے ہو سکتے ہیں کیونکہ اسے عاج اور عالج پڑھا جا سکتا ہے۔(۱) لفظ حاج اسم فاعل ہے۔اس کا مادہ عجوہ ہے جس کے معنے ہیں :۔شیر یکه طفل یتیم را خورانند۔(منتهی الارب) پس ربنا عاج کے معنے ہوں گے۔ہمارا رب وہ ہے جو ہماری یتیمی کی حالت میں بھی خالص دودھ پلانے والا ہے۔اس میں یہ اشارہ ہے کہ ان دنوں جبکہ ایمان ثریا پر جاچکا تھا اور زمینی کنوئیں (علماء و صوفیاء) بھی خشک ہو چکے تھے اور ہم کسمپرسی کی حالت میں تھے ہمارے رب نے ہمارا ہاتھ پکڑا اور آسمانی دُودھ سے بہرہ یاب فرمایا۔انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے حضرت نے فرمایا ہے ہے ابتداء سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کئے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار الہام الہی ” آسمان سے بہت دُودھ اُترا ہے محفوظ رکھو ( تذکرہ صفحہ ۶۵۲) سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔(۲) لفظ عائج اسم فاعل ہے۔اس کا مادہ تاج ہے۔جس کے متعلق صراح اور منتہی الا رب میں لکھا ہے :- عج - عبا و عجیجاً برداشت آواز را و بانگ کرو۔منه الحديث أَفْضَلُ الحج العَجُ والتَّج یعنی برداشتن آواز را و قربان کردن هدیه را پس ربنا عائج کے معنے ہوں گے کہ ہمارا خدا آواز بلند کرنے والا ہے یعنی اس کے احکام کا ہی غلبہ ہو گا۔اس مفہوم میں حضرت نے فرمایا اسْمَعُوا صَوْتَ السَّمَاءِ جَاءَ الْمَسِيحَ جَاءَ الْمَسِيحَ نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار (456)