تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 441 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 441

جلسہ میں سنائی گئی۔اور پھر عربی اور فارسی اور انگریزی اور پنجابی اور پشتو میں تقریریں قلمبند ہو کر پڑھی گئیں۔اُردو میں اسلئے کہ وہ عدالت کی بولی اور شاہی تجویز کے موافق دفتروں میں رواج یافتہ ہے اور عربی میں اسلئے کہ وہ خدا کی بولی ہے جس سے دنیا کی تمام زبانیں نکلیں اور جو ام الالسنہ اور دنیا کی تمام زبانوں کی ماں ہے جس میں خدا کی آخری کتاب قرآن شریف خلقت کی ہدایت کیلئے آیا ہے اور فارسی میں اسلئے کہ وہ گزشتہ اسلامی بادشاہوں کی یادگار ہے جنہوں نے اس ملک میں قریباً سات سو برس تک فرمانروائی کی۔اور انگریزی میں اسلئے کہ وہ ہماری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند اور اس کے معزز ارکان کی زبان ہے جس کے عدل اور احسان کے ہم شکر گزار ہیں اور پنجابی میں اس لئے کہ وہ ہماری مادری زبان ہے جس میں شکر کرنا واجب ہے۔اور پشتو میں اس لئے کہ وہ ہماری زبان اور فارسی زبان میں ایک برزخ اور سرحدی اقبال کا نشان ہے۔“ (اشتہار ۲۳ جون ۱۸۹۷ء) سمجھدار لوگ تو اس دلیل کو مان جائیں گے مگر ان کا کیا علاج ہے جو متذکرہ صدر ضرب المثل کے مصداق ہوں؟ بہر حال یہ بھی اعتراض باطل اور محض مغالطہ ہے۔(1) مولوی محمدحسین بٹالوی کی ذلت کا اشتہار - الجواب۔چونکہ معترض نے یہی اعتراض بعینہ فصل دہم کے نمبر ۵ میں بھی کیا ہے اسلئے اس کا مفصل جواب اُسی جگہ لکھا جائے گا۔وہاں ملاحظہ فرمائیں۔(۷) سہ سالہ نشان کی دُعا۔الجواب۔تکرار سے بچنے کے لئے اس کا جواب فصل دہم کے نمبر 4 میں درج کیا گیا ہے۔(۹۸) ڈاکٹر عبد الحکیم سے تعلق دُعا۔اس کا جواب بھی فصل دہم کے نمبر 1 میں فضل مسطور ہے۔(۱۰) مولوی ثناء اللہ کے متعلق دُعا۔اسی اعتراض کو معترض نے فصل دہم کے آخری نمبر میں دہرایا ہے اسلئے ہم نے بھی ہر دو جگہ کے اعتراضات کو ملا کر فصل دہم کے نمبر ۱۰ میں اس کا مفضل جواب دیا ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ناظرین کرام ! اس جگہ یہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کامیابی حضور کی دعاؤں ہی کے طفیل ہوئی ہے۔اِس قدر عظیم الشان مخالفت کے۔(441)