تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 435 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 435

اس کو دھکے دیتی ہے کہ چونکہ ایک مرتبہ نبی نے دعا کر دی ہے اب خواہ کچھ کرتے رہو تم بہر حال نیک ہو۔نہیں نہیں بلکہ تم کو خود بھی تقوی اور نیکی پر قائم رہنا ضروری ہے۔دعاؤں کی تاثیر کا انکار نہیں لیکن ہے کہ بد پرہیز بیمارے نہ بیند روئے صحت را‘ کے بیچ ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں الآنَ إِنْدَ فَعَ الْإِشْكَالُ بَحْذَا فِيْرِهِ - (۴) سیدا میر شاہ کے لڑکے کے لئے دُعا معترض پٹیالوی لکھتا ہے :۔"" سید امیرشاہ رسالدار میجر سے پانصد روپیہ پیشگی لے کر ان کے بیٹا ہونے کی دُعا کی جس کی میعاد ۱۵ اگست ۱۸۸۹ء کو ختم ہوئی مگر یہ قیمتی دعا بھی مرد و دو نا مقبول ہوئی۔مرزا صاحب کا خط ۱۵ / اگست ۸۸ و مندرجہ عصائے موسیٰ صفحه ۴۲ (عشره صفحه ۹۴) الجواب - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خط کا حوالہ معترض پٹیالوی نے عصائے موسیٰ صفحہ ۴۲ درج کیا ہے۔یہ ایک معاند منکر کی کتاب ہے۔دوسرے اس میں بھی خط مذکور نہیں بلکہ ایک مخالف حق شخص نے چند ادھورے فقرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے منسوب کئے ہیں۔مکمل خط درج نہیں کیا تا اس کا سیاق و سباق معلوم ہو سکے اور نہ ہی خط کا عکس شائع کیا ہے تا اس کی اصلیت پر دلیل قائم ہو سکے۔پس اول تو مکذب پٹیالوی کا دعوی بے بنیاد ہے۔۲ - سید امیر شاہ صاحب مذکور سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پانصد روپیہ پیشگی لے کر دعا کی یہ صحیح نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے روپیہ مانگا نہیں تھا بلکہ انہوں نے بطور خود بھیج دیا تھا۔لیجئے عصائے موسیٰ والا آپ کا پیش کردہ گواہ کہتا ہے :۔رسالدار صاحب نے اپنی حسنِ ظنی و فراخدلی سے پانسو روپیہ بھی۔۔۔پیشگی دیدیا۔( عصائے موسیٰ صفحہ ۴۲) پس معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُس سے روپیہ مانگا نہیں بلکہ اُس نے خود اپنی حسن فطنی کے طور پر بھیج دیا تھا۔- قبولیت دعا کے فلسفہ پر ہم ابتداء میں مفصل بحث کر چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود السلام نے سید امیرشاہ رسالدار کے لئے دعا کی لیکن رسالدار مذکور اپنی شتابکاری (435