تفہیماتِ ربانیّہ — Page 39
احمد کیال اس کے متعلق منشی محمد یعقوب صاحب نے لکھا ہے :- پہلے یہ محبت اہلبیت کا مدعی تھا۔بعد ازاں امام الزمان ہونے کا دعویدار ہوا۔اس سے ترقی کی تو کہا میں القائم ہوں۔“ (صفحہ ۲۸) اس بیان کو صحیح تسلیم کرتے ہوئے ہم یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ اس سے کیا ثابت ہوا۔کیا ۲۳ سالہ معیار باطل ہو گیا ؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ مدعی مذکور کا تو دعوای وحی و نبوت موجود نہیں۔باقی رہا کامیابی کا سوال، اس کے متعلق الملل والنحل میں لکھا ہے :- لَمَّا وَقَفُوا عَلَى بِدُعَتِهِ تَبَرَّؤُا مِنْهُ وَلَعَنُوهُ وَآمَرُوا شِيْعَتَهُمْ بِمُنَا بَذَتِهِ وَتَرْكِ مُخَالَطَتِهِ۔“ ( جلد ۲ صفحہ ۷ ابر حاشیہ الفصل فی الملل ) کہ جب اس کی جماعت نے اس کی بدعت کو دیکھا تو وہ سب اس سے بیزار ہو گئے۔اس پر لعنت کی اور دوسروں کو اس سے اجتناب کرنے کا حکم دیدیا۔“ ان حالات میں نہ معلوم کہ منشی صاحب موصوف نے اس قدر زحمت کیوں اٹھائی کہ اتنے نام پیش کریں حالانکہ اصل مبحث سے اس کا بھی تعلق نہیں۔ایک اہم سوال کا جواب ناظرین کرام ! ہم سطور فوق میں بتا چکے ہیں کہ جن دن کا ذبوں کو بطور نظیر پیش کیا گیا ہے اور جن کے متعلق منشی صاحب کو بہت دعوی تھا ان میں سے ایک بھی ایسا وجود نہیں جو دلو تقول کی باطل شکن تحدی کے سامنے ٹھہر سکے۔حسن بن صباح اور اکبر بادشاہ وغیرہ کو خود منشی صاحب نے تفصیلی بیان میں چھوڑ دیا ہے کیونکہ ان کا دعوی وحی و نبوت ہرگز ثابت نہیں۔جن کو پیش کیا ہے اُن میں سے ابو منصور مقتع اور ابوالخطاب کا دعوی الوہیت ثابت ہے اور باقیوں میں سے کسی ایک کا بھی اپنا دعوائی کا موریت یا نبوت و رسالت موجود نہیں جسے اُس نے کھلم کھلا اور برملا پیش کیا ہو۔اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کے حل کرنے کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ بعض نادان اس مطالبہ نظیر پر فرعون کا نام پیش کر دیا کرتے ہیں جیسا کہ کڑک آسمانی “ وغیرہ کتب میں کیا گیا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر یہ درست ہے کہ مفتری علی اللہ اور منتقول کو تئیس برس مہلت نہیں مل سکتی تو مدعیانِ الوہیت فرعونِ مصر اور بہاء اللہ ایرانی (جس کا قول ہے لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا الْمَسْجُونُ 39