تفہیماتِ ربانیّہ — Page 424
ہمیں دیدیا۔وہی مرض ان کے دامنگیر ہوگئی۔آخر وہ اسی بندہ کی دعاؤں سے شفایاب ہو گئے فَالْحَمْدُ لِلّهِ عَلى ذالک۔میرا صد ہا مرتبہ تجربہ ہے کہ خدا ایسا رحیم و کریم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا منظور کر لیتا ہے جو اس کے مثل ہوتی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے مَا نَنْسَحُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنَسِهَا تَأْتِ بِخَيْرٍ منْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير " (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۲۷) اندریں صورت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کو مردود قرار دینا شرافت اور انسانیت کو بٹہ لگانا ہے۔اے لوگو! خدا تعالیٰ کی سزا سے ڈر جاؤ اور صادقوں کو کا ذب مت ٹھہراؤ۔پھر اسی سلسلہ میں معترض پٹیا لوی لکھتا ہے :- " مرزا صاحب کے ملہم نے اتنے دنوں تک ناحق ان کو بھٹکایا۔یہاں تک کہ اسی اثناء میں دو تین بار قبولیت دعا اور صحت کی بشارتیں بھی ہوئیں۔کئی الہام مایوسی بخش بھی تھے۔کیا یہ صریح طور پر ابن صیاد کے الہاموں کی مثال نہیں جن میں کچھ جھوٹ کچھ بیچ کی آمیزش ہوا کرتی تھی۔“ (عشرہ صفحہ ۹۳) تھی۔“ ہم حضرت مولوی صاحب مرحوم کی صحت کے متعلق ادعاء الہام پر مفصل بحث کر چکے ہیں اور انعامی چیلنج دے چکے ہیں۔معترض لکھتا ہے کہ کئی الہام مایوسی بخش تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ الہامات میں سے ایک الہام بھی مولوی صاحب کی صحت کی بشارت نہ دیتا تھا۔حضرت مسیح موعود کو اس بارہ میں جس قدر الہامات ہوئے سب حضرت مولوی صاحب کی وفات کی خبر دے رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ :- یادر ہے کہ میرے نشانوں کو سُن کر مولوی ثناء اللہ صاحب کی عادت ہے کہ ابو جہلی مادہ کے جوش سے انکار کے لئے کچے حیلے پیش کیا کرتے ہیں۔چنانچہ اس جگہ بھی انہوں نے یہی عادت دکھلائی۔اور محض افتراء کے طور پر اپنے پرچہ اہلحدیث ۸ فروری ۱۹۰۷ ء میں میری نسبت یہ لکھ دیا ہے که مولوی عبدالکریم صحتیاب ہونے کی نسبت جو ان کو الہام ہوا تھا کہ وہ ضرور صحتیاب ہو جاوے گا مگر آخر وہ فوت ہو گیا۔اس افتراء کا ہم کیا جواب (424)