تفہیماتِ ربانیّہ — Page 407
ہو اور موجب فرار وانتشار نہ ہو۔کیونکہ شاذ و نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے۔“ ( دافع البلاء صفحہ ۵) معزز قارئین! ان عبارات کو پڑھئے اور معترض پٹیالوی کے خود تراشیدہ الفاظ قادیان میں ہرگز طاعون نہ ہوگا“ کا مقابلہ کیجئے۔بع اللہ الہ خا تمہ ہی کردیا تحریف کا۔اب ذرا کشتی نوح صفحہ ۲ کی عبارت بھی ملاحظہ فرمائیں۔حضرت تحریر فرماتے ہیں :- اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص میرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہوگا اور وہ جو تکامل پیروی اور اطاعت اور بچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے اور ان آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہوگا۔تا وہ قوموں میں فرق کر کے دکھلاوے۔لیکن جو کامل طور پر پیروی نہیں کرتا وہ تجھ میں سے نہیں ہے اس کے لئے مت دلگیر ہو۔یہ حکم الہی ہے جس کہ وجہ سے ہمیں اپنے نفس کے لئے اور ان سب کے لئے جو ہمارے گھر کی چاردیواری میں رہتے ہیں ٹیکہ کی کچھ ضرورت نہیں۔اس نے مجھے مخاطب کر کے یہ بھی فرما دیا کہ عموماً قادیان میں سخت بر بادی افگن طاعون نہیں آئے گی جس سے لوگ کتوں کی طرح مریں اور مارے غم اور سرگردانی کے دیوانہ ہو جائیں۔اور عموماً تمام لوگ اس جماعت کے گو وہ کتنے ہی ہوں مخالفوں کی نسبت طاعون سے محفوظ رہیں گے۔مگر ایسے لوگ ان میں سے جو اپنے عہد پر پورے طور پر قائم نہیں یا ان کی نسبت اور کوئی وجہ خفی ہو جو خدا کے علم میں ہو ان پر طاعون وارد ہو سکتی ہے۔مگر انجام کار لوگ تعجب کی نظر سے اقرار کریں گے کہ نسبتاً و مقابلہ خدا کی حمایت اس قوم کے ساتھ ہے اور اس نے خاص رحمت سے ان لوگوں کو ایسا بچایا ہے جس کی نظیر نہیں۔“ (کشتی نوح صفحہ ۲) اس اقتباس کو پڑھ کر مصنف عشرہ کی یہودیانہ تحریف آنکھوں کے آگے پھر جاتی ہے (407)