تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page iv of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page iv

بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ الہی جماعتوں کا ابتدائے آفرینش سے یہی طرۂ امتیاز رہا ہے کہ جب جب مکفرین و مکذبین نے ان کے خلاف محاذ آرائی کی ناپاک جسارت کی تب تب نصرت الہی کے زیر سایہ مجاہدین ربانی نے اس شان سے جو ہر شجاعت دکھلائے کہ مخالفین اپنی تمام تر باطل طاقتوں ولا ولشکر سمیت بحرنا مرادی میں غرقاب ہو گئے۔حضرت سلطان القلم مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس قلمی جہاد کے دور میں بھی جب ایک معاند و مکذب احمدیت نے موجود الوقت جملہ مخالفین احمدیت کے اعتراضات ووساوس کو مجتمع کر کے بزعم خود ایک لشکر جرار جماعت مومنین کے مقابل لاکھڑا کیا اور اس مجموعہ کو " عشرہ کاملہ “ سے موسوم کرتے ہوئے نہ صرف یہ تحدی کی کہ عشرہ کاملہ کا جواب امت مرزائیہ قیامت تک بھی نہیں دے سکتی۔بلکہ اپنی یقینی کامیابی کے زعم باطل میں اس کے جواب کے لئے ایک ہزار روپیہ کے انعام کا بھی اعلان کیا اور تاحیات اس کی ادائیگی کے لئے ذمہ داری بھی بتائی۔اُس وقت حضرت فضل عمر خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد پر خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطا صاحب جالندھری نے حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء علیہ السلام کی پیشگوئی کہ وَاللهِ يَكْفِي مِنْ كُمَاةِ نِضَالِنَا جَلَدٌ مِنَ الْفِتْيَانِ لِلْأَعْدَاءِ (خدا کی قسم ہمارے مردان کارزار میں سے ایک جوان ہی سب دشمنوں کے لئے کافی ہے ) کو روز روشن کی طرح پورا کرتے ہوئے مخالفین کے تمام اعتراضات کا شیرازہ جہاں تار عنکبوت کی طرح بکھیر کر دندان شکن جواب تحریر فرمایا بلکہ علم وادب کا ایک بیش قیمت خزانہ اگلی نسلوں کے لئے یاد گار چھوڑا ہے۔