تفہیماتِ ربانیّہ — Page 370
انبیاء گر چه بوده اند بسے من بعرفاں نہ کمترم ز کسے پس حضرت یونس کو ان الفاظ میں الہام نہ ہونے سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔فتد تبر۔(۵) مرزا صاحب کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر ایک مانع دُور کرنے کے بعد اس لڑکی کو انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا مگر حضرت یونس نے ایسا نہیں فرمایا کہ یہ پیشگوئی ہر حالت میں ضرور ہی ظہور میں آئے گی۔(عشرہ صفحہ ۸۳) الجواب - نکاح کے لئے تو مانع دُور کرنے کے بعد کا وقت تھا اور مانع کا دُور کرنا یعنی ہلاکت، اصرار علی الاستہزاء پر مبنی تھی اسلئے اعتراض فضول ہے۔اگر کہو کہ اس میں یقین پایا جاتا ہے اور یونس علیہ السلام نے ایسے یقینی الفاظ نہیں کہے تو یادر ہے کہ حضرت یونس کے سارے الفاظ محفوظ نہیں ہیں لیکن ان کا قول لا ارجع اليهم كذاباً صاف بتا رہا ہے کہ انہوں نے نہایت یقینی اور غیر مبہم الفاظ میں اس وعید کا ذکر کیا تھا۔ہاں علامہ فخر الدین رازی کے یہ الفاظ بھی آپ کے مطالبہ کا جواب ہیں۔لکھا ہے :- إِنَّ ذَنْبَهُ يَعْنِي ذَنْبَ يُونُسَ كَانَ لِاَنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَعَدَهُ إِنْزَالَ الْإِهْلَاكِ بِقَوْمِهِ الَّذِينَ كَذَّبُوهُ فَظَنَّ أَنَّهُ نَازِلُ لَا مُحَالَةَ فَلَا جُلٍ هَذَا الظَّنَّ لَمْ يَصْبِرُ عَلَى دُعَائِهِمْ۔“ ( تفسیر کبیر صفحہ ۱۶۴) کہ حضرت یونس کی یہ غلطی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان سے ان لوگوں پر عذاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا جو مکذب تھے مگر انہوں نے یہ خیال کر کے کہ یہ عذاب ضروری اور قطعی طور پر ہی نازل ہونے والا ہے ان کو تبلیغ کرنا ترک کر دیا۔“ معلوم ہو ا حضرت یونس نے بھی اس عذاب کو قطعی اور حتمی وعید سمجھا تھا۔(1) مرزا صاحب نے محمدی بیگم کے نکاح پر خدا کی قسم کھائی ہے لیکن حضرت یونس نے کوئی قسم نہیں کھائی۔“ (عشرہ صفحہ ۸۳) الجواب قسم کھانے یا نہ کھانے سے کیا فرق پڑ جاتا ہے؟ اگر مخالف کسی بات کے ہونے سے باصرار انکار کریں تو قسم کھائی جاتی ہے ورنہ کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔اور یہی فرق اِن ے بالکل جھوٹ نکاح پر نہیں بلکہ پیشگوئی کی صداقت پر۔سودہ پوری ہوگئی۔(مؤلف) (370)