تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 338 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 338

ڈیڑھ سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن اس ملک کے لوگ ابھی تک کہے جاتے ہیں کہ کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا۔“ ( نزول اسیح صفحہ ۲۶) (ج) ”اے تکذیب کرنے والو! تم کب باز آؤ گے۔وہ کب دن آئے گا جو تمہاری بھی آنکھیں گھلیں گی۔خدا کے نشان یوں بر سے جیسے برسات میں مینہ برستا ہے مگر تمہاری خشکی دور نہ ہوئی۔دیکھتے دیکھتے صدی کا پانچواں حصہ بھی گزر گیا مر تمہارا کوئی مجد دظاہر نہ ہوا۔خدا نے نشانوں کے دکھلانے میں کمی نہ رکھی۔کسوف و خسوف رمضان میں بھی ہوا اور بموجب حدیث کے ستارہ ذُو السنین مدت ہوئی کہ نکل چکا اور قرآن اور پہلی کتابوں اور سنیوں اور شیعوں کی حدیثوں کے موافق طاعون بھی ملک میں ظاہر ہوگی۔اور حج بھی روکا گیا اور بجائے اونٹوں کے نئی سواریاں بھی پیدا ہوگئیں۔اور کسر صلیب کی ضرورت بھی سخت محسوس ہونے لگی۔کیونکہ انتیس لاکھ نو مرتد عیسائی پنجاب اور ہندوستان میں ظاہر ہو گیا اور آدم سے ۶ ہزار برس بھی گزر گیا۔مگر اب تک تمہارا مسیح نہ آیا۔کیا خدا نے نشان نمائی میں کچھ کسر رکھی۔۔۔اگر ان نشانوں کے گواہ جنہوں نے یہ نشان دیکھے جو اب تک زندہ موجود ہیں صف باندھ کر کھڑے کئے جائیں تو ایک بھاری گورنمنٹ کے لشکر کے موافق ان کی تعداد ہوگی۔اب کس قدر ظلم ہے کہ اس قدر نشانوں کو دیکھ کر پھر کہے جاتے ہیں کہ کوئی نشان ظاہر نہیں ہوا“ ( نزول مسیح صفحہ ۲۸-۲۹) (3) جلا منظم مذاہب (۱۸۵ء میں مضمون کے غالب رہنے کی پیشگوئی کے سلسلہ میں لکھا ہے:۔یہ پیشگوئی قبل از وقت بذریعہ اشتہار کے شائع کی گئی تھی اور موقع پر اسکو پورا ہوتے ہوئے دیکھنے والے ہزاروں آدمی اسوقت ہر ملت و مذہب کے میدان جلسہ میں موجود تھے جنہوں نے اقرار کیا کہ یہ ضمون غالب رہا اور نیز انگریزی واردو اخباروں نے اس امر کی تصدیق کی کہ یہی مضمون سب سے بالا رہا“ ( نزول اسیح صفحہ ۱۹۵) اب تو صدی میں سے ۸۴ برس بھی گزر گئے مگر کوئی مسجد دمبعوث نہ ہوا۔سچ فرمایا سے سر کو پیٹو آسماں سے اب کوئی آتا نہیں : عمر دنیا سے بھی اب تو آ گیا ہفتم ہزار (مؤلف) (338)