تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 335 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 335

”مرزا صاحب نے بھی جھوٹ کی بہت مذمت کی ہے۔“ (عقر صفحہ ۷۷) معترض کے پیش کردہ جھوٹوں کی حقیقت تو آئندہ صفحات میں مندرج ہے لیکن عقد لیکن عقلمند انسان اسی بات سے اندازہ کر سکتا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مرزا صاحب ایسے ہی جھوٹے اور در ونگو تھے تو پھر انہیں جھوٹ کی مذمت کی کیا ضرورت تھی۔ان کا مذمت کرنا ہی بتاتا ہے کہ دراصل انہوں نے کوئی کذب بیانی نہیں کی۔یہ تمام مخالفین کے دماغوں کا اختراع ہے ہے عاقل را اشاره کافیست اب ہم معترض پٹیالوی کے پیش کردہ کذبات کا جواب نمبر وار درج کرتے ہیں۔(1) معترض پٹیالوی حضرت اقدس کی کتاب اعجاز احمدی صفحہ اسے فقرہ ” اگر میری اِن پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے تمام گواہ اکٹھے کئے جاویں تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ساٹھ لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے نقل کر کے لکھتا ہے :- وو اول تو یہی جھوٹ ہے کہ غلط پیشگوئیوں کو پورا ہونا کہتے ہیں ، دوسرے یہ ساٹھ لاکھ کی گپ بھی قابل داد ہے۔خود اپنی کتاب نزول مسیح میں لکھتے ہیں کہ میرے مریدوں کی تعداد ستر ہزار ہے۔اب ظاہر ہے کہ مرید ہی گواہ ہو سکتے ہیں۔جب ساٹھ لاکھ مرید نہیں تو ساٹھ لاکھ گواہ کہاں سے ہو گئے۔پھر یہ کراماتی جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۷۸) الجواب - پیشگوئیاں تو پوری ہوتی ہیں مگر عداوت کیش انسان کا یہی کام ہے کہ ان کو غلط ہی قرار دے۔ہاں جو آپ نے ستر ہزار اور ساٹھ لاکھ کا مقابلہ کر کے ساٹھ لاکھ گواہوں کا ہونا ناممکن قرار دیا ہے کیونکہ مرید اتنے نہیں۔اور پھر اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔یہ آپ کی کج فہمی یا مرتیک خیانت اور دھو کہ رہی ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس معاملہ کو اپنی کتاب نزول مسیح میں بوضاحت بیان کر دیا ہے۔معترض کی بناء اعتراض یہ ہے کہ مرید ہی گواہ ہو سکتے ہیں اور یہ خود فاسد بلکہ فاسد ترین ہے خشت اول چوں نہر معمار کج به تا ثریا می رود دیوار کج یہ قسم ابھی پٹیالہ میں ایجاد ہوئی ہے۔کرامت اور جھوٹ؟ ایجاد گندہ اس کا نام ہے۔۱۲ مولف (335