تفہیماتِ ربانیّہ — Page 325
پھر خود مصنف عشرہ نے اپنے ” ساتویں افتراء میں نکاح کو احمد بیگ کے داماد کی موت پر ہی موقوف تسلیم کر لیا ہے۔جیسا کہ اُس نے اپنے ترجمہ میں بھی لکھا ہے :- واپسی کے بعد ہم نے نکاح کر دیا۔“ (عشرہ صفحہ ۷۲) ان بیانات سے متذکرہ صدر دعوی یعنی یہ کہ نکاح آخری قدم اور ان دونوں کی موت کے بعد کا مرحلہ ہے ایک مسلمہ بات ہے۔اسلئے جب تک دونوں کی موت واقع نہ ہولے نکاح کا سوال کرنا ہی غلط ہے۔اب صرف یہ سوال باقی ہے کہ سلطان محمد کیوں نہ مرا ؟ اس کا مختصر جواب یہی ہے کہ اس کی موت کے لئے عدم تو بہ اور اصرار علی التکذیب شرط تھا۔اذا فات الشرط فات المشروط ـ انجام آتھم جس پر معترض کے ان سات افتراؤں کی بنیاد ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف طور پر ارقام فرمایا ہے :- " مَا كَانَ الْهَامُ فِي هَذِهِ الْمُقَدِّمَةِ إِلَّا كَانَ مَعَهُ شَرْطَ كَمَا قَرَأْتُ عَلَيْكَ فِي التَّذْكِرَةِ السَّابقة - ترجمہ۔اس معاملہ ( نکاح محمدی بیگم ) میں کوئی بھی الہام ایسا نہیں جس کے ساتھ شرط نہ ہو جیسا کہ میں گزشتہ بیانات میں لکھ چکا ہوں۔‘‘ (صفحہ ۲۲۳) اس قدر واضح بیان کے بعد شرط کو حذف کر کے شور مچانا دیانتداری کا خون کرنا ہے۔الغرض یہ پیشگوئی اور اس کے متعلقہ تمام الہامات مشروط تھے اور وہ شرائط کے مطابق بالکل پورے ہو گئے جیسا کہ دسویں فصل میں آپ بالتفصیل ملاحظہ فرما دیں گے۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ شرطی پیشگوئیاں اپنے شرائط کے مطابق پورا ہوا کرتی ہیں۔حضرت یونس نے اپنی قوم کو عذاب کا وعدہ دیا مگر عذاب نہ آیا اگر چہ وہاں شرط صراحتا مذکور یہ تھی لیکن تاہم چونکہ عذاب کی پیشگوئیاں مشروط بعدم التوبہ ہوتی ہیں اسلئے نہیں کہہ سکتے کہ یونس کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو سر زمین کنعان کے متعلق "كَتَبَ اللهُ لَكُمْ “ کی بشارت سنائی لیکن جب قوم نے اپنی بداعمالی کے ماتحت رُوگردانی کی تو وہ وعدہ لے یہ وہی صفحہ ہے جس کی عبارت کا ایک حصہ معترض نے چھٹے نمبر میں درج کر کے مغالطہ دینا چاہا ہے۔سی تفصیل فصل دہم و تہم میں مذکور ہے۔۳ سورہ مائدہ رکوع ۴ پر (325)