تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 314 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 314

کا جواب لکھتے ہیں۔مفتر یا نہ اقوال اور اُن کی حقیقت (۱تا۳) معترض پیٹیالوی لکھتا ہے :- ” جب مرزا صاحب کو ان کے غلط الہامات اور جھوٹی پیشگوئیوں کی وجہ سے مفتری کہا گیا تو آپ لکھتے ہیں کہ (۱) قرآن شریف کے نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے۔خدائے قادر و غیور اس کو امن میں نہیں چھوڑتا۔اس کی غیرت اس کو کچل ڈالتی ہے اور جلد ہلاک کرتی ہے۔( انجام آتھم صفحه ۴۹) (۲) خدائے تعالیٰ پر افتراء کرنے والا جلد مارا جاتا ہے ( انجام آتھم صفحہ ۵۰) (۳) ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالے پر افتراء کر نیوالے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔(انجام آتھم صفحہ ۶۳) یہ ہر سہ اقوال بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں۔قرآن شریف میں کہیں ذکر نہیں کہ مفتری جلد ہلاک کر دیا جاتا ہے۔خدا پر افتراء کرنے والے بعض جلدی مارے گئے۔بعض پہلے نہایت غریب تھے مگر افتراء علی اللہ کرنے کے بعد بادشاہ بن گئے قرآن شریف سے تو ایسے لوگوں کو مہلت دیئے جانے کا ثبوت ملتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے وَأَمَلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِى مَتِين۔۔۔۔تين افتراء تو یہ ہوئے۔(عشرہ صفحہ ۷۰-۷۱) الجواب ان تین اقتباسات کو جو ایک ہی کتاب میں اور ایک ہی مطلب پرمش ہیں تین افتراء قرار دینا خود ایک گندہ جھوٹ ہے۔ایک لمحہ کے لئے فرض کر لو کہ " قرآن شریف میں کہیں ذکر نہیں کہ مفتری جلد ہلاک کر دیا جاتا ہے۔تو کیا پھر یہ تین افتراء ہوئے ؟ جبکہ ان ہرسہ عبارتوں کا مفاد ایک ہی ہے تو پھر اگر نعوذ باللہ یہ افتراء ہے تو ایک ہوا ایا تین؟ اگر نمبر شماری کا یہی طریق ہے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سینکڑوں تحریرات میں یہ مضمون بیان ہوا ہے ا ہم ان کے متعلق نہایت تفصیل سے فصل اوّل میں بحث کر چکے ہیں۔(مؤلف) مكتمل (314)