تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 313 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 313

اس دھوکہ کی ٹی کا شکار ہو جائیں؟ آپ کے اس اعتراض کا جواب اوپر کی سطور میں گزر چکا ہے۔ہم اس جگہ صرف ایک حوالہ درج کرنے کے بعد اس جواب کو ختم کر دیں گے۔حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں :- ”ہمارا تو دعوی ہے کہ معجزہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی تائید سے اس انشاء پردازی کی ہمیں طاقت ملی ہے تا معارف و حقائقِ قرآنی کو اس پیرایہ میں بھی دنیا پر ظاہر کریں اور وہ بلاغت جو ایک بے ہودہ اور لغوطور پر اسلام میں رائج ہوگئی تھی۔اس کو کلام الہی کا خادم بنایا جائے۔(نزول السح صفحہ ۵۹) حضرات! آپ مندرجہ بالا اقتباس کو پڑھیں اور سمجھ لیں کہ معترض پٹیالوی کی دیانتداری کا جنازہ نکل چکا ہے۔دیکھئے اتنا بڑا ظلم کہ حضرت مسیح موعود تو اس اعجازی کلام کو حقائق و معارف قرآنی کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں اسی لئے اعجاز اسیح میں معارف سے لبریز تفسیر سورۃ فاتحہ درج فرمائی۔لیکن یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے قرآن کی مثل کا امکان ثابت کر دیا ؟ انا لله وإنا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ اعتراض ویسی ہی نادانی ہے جیسا کہ پنڈت دیانند نے لکھا ہے کہ فیضی نے بے نقط کتاب قرآن مجید کے مقابلہ پر تیار کی تھی حالانکہ وہ تو خود قرآن مجید کی تفسیر ہے۔یہی حال اس جگہ ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قرآن مجید کے مقابلہ پر ہے حالانکہ مدعی پکار پکار کر بتا رہا ہے کہ میں نے یہ کتب قرآنِ پاک کی خدمت اور معارف قرآن کی اشاعت اور ترویج کے لئے لکھی ہیں بے یہ میں تفاوت راه از کجا است تا یکجا ناظرین کرام ! ان سطور سے واضح ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اعجازی کلام محض تائید قرآن مجید کے لئے ہے۔ایک دوسری جگہ حضرت نے اس سے بھی زیادہ واضح طور پر تحریر فرمایا ہے کہ :۔میں قرآن شریف کے معجزہ کے ظل پر عربی بلاغت وفصاحت کا نشان دیا گیا ہوں۔کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔“ ( ضرورۃ الامام صفحہ ۲۵) مسئله اعجاز پر پیش کردہ اعتراضات کے جواب کے بعد ہم پٹیالوی معترض کی دوسری مفتریات (313)