تفہیماتِ ربانیّہ — Page 304
من نگویم ایس مکن آں گن به مصلحت بین و کار آساں گن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی وجہ سے پہلے ہی تحریر فرما دیا تھا :- مولوی ثناء اللہ کو اس بدگمانی کی طرف راہ نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ قصیدہ پہلے سے بنارکھا تھا۔کیونکہ وہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھے کہ مباحثہ مذ کا اس میں ذکر ہے۔پس اگر میں نے پہلے بنایا تھا تب تو انہیں مانا چاہئے کہ میں عالم الغیب ہوں۔بہر صورت یہ بھی ایک نشان ہوا۔اس لئے اب ان کو کسی طرف فرار کی راہ نہیں اور آج وہ الہام پورا ہوا جو خدا نے فرمایا تھا قادر کے کاروبار نمودار ہو گئے کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے“ ( اعجاز احمدی صفحه ۳۷) حضرات ! آپ اس تحریر کو دیکھئے ، اس کی محکم دلیل کو وزن کیجئے اور ہر دو مکذبین (امرتسری و بیٹیالوی ) کی دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیں منصفو! کیوں ! اب تو دیکھا رنگ اس عیار کا یہ اب تو کہد و کیا یہ موقع تھا اسی گفتار کا اعجاز احمدی کی مدت تصنیف پر خود مولوی ثناء اللہ امرتسری کی شہادت وہ عجیب طاقتوں کا خدا ہے جس نے اپنے مظلوم بندے سے کہا تھا انی مهین من اراد اهانتک اور پھر ہر موقع پر اس کا نمونہ دکھایا ہے ثناء اللہ امرتسری اور محمد یعقوب پٹیالوی نے یوں تو لکھ دیا کہ اعجاز احمدی اچھی خاصی مدت میں تیار ہوئی ہے اور مخاطب (یعنی ثناء اللہ) کو علم نہیں کہ کتنے عرصہ کی کد و کاوش کا نتیجہ یہ ۹۰ صفحہ کا رسالہ ہے۔لیکن خداوند تعالیٰ نے ثناء اللہ امرتسری سے اسی کتاب اور اسی اعتراض سے چند سطریں قبل مندرجہ ذیل فقرات لکھوا کر اسے ذلیل و رسوا کر دیا۔پڑھئے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری لکھتے ہیں کہ : موضع حد ضلع امرتسر میں مرزائیوں نے شور وشغب کیا تو ان لوگوں نے لاہور ایک آدمی بھیجا کہ وہاں سے کسی عالم کو لاؤ کہ ان سے مباحثہ کریں۔اہالی لاہور کے (304)