تفہیماتِ ربانیّہ — Page 298
ہے تو وہ ظاہری اسباب کو معدوم پا کر موجود کر دیتا ہے۔کیا اس نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کے لئے سنسان وادی میں پانی پیدا نہ کر دیا ؟ کیا اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے مخالف سامانوں کے ہوتے ہوئے غار ثور میں زندہ نہ بچایا ؟ افسوس کہ سب کچھ دیکھتے ہوئے تم خدا سے نا امیدی ظاہر کر رہے ہو۔سچی بات یہی ہے کہ تم میں تو گل ، امانت اور تقویٰ کا ذرہ نہ تھا۔ورنہ کیا قادر خدا مقابلہ اور شدید مقابلہ کے وقت بھی تمہارے لئے سامان موافق نہ کرتا۔حالانکہ وہ قرآن مجید میں فرما چکا تھا وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مخرجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ (الطلاق رکوع ۱ ) پس اگر تم میں تقویٰ ہوتا تو سارے سامان میسر ہو جاتے اور اگر تم میں خدا کی ذات پر یقین ہوتا تو ان بودے اور لچر عذروں سے حق کو چھپانے کی کوشش نہ کرتے۔مگر آہ ! تم اُس قادر اور مسبب الاسباب خدا کے چہرہ اور اس کی قدرتوں سے محجوب ہو۔اور یہی ضرورت تھی کہ مسیح وقت آتا اور تم کو پھر اسی کے آستانہ پر جھکا دیتا۔افسوس! ان لوگوں نے اتنا بھی غور نہ کیا کہ اگر پریس کی وجہ سے اعجاز احمدی معجزہ نہیں بن سکتی تو کیا حضرت نوح علیہ السلام کا کشتی میں بچ جانا معجزہ رہ سکتا ہے؟ حالانکہ رب السموات اس واقعہ کو آیۃ للعلمین قرار دیتا ہے۔پھر اگر پریس کے باعث اس اعجاز میں نقص ہے تو کیا صحابہ کرام کی فتوحات جنگ بدر اور فتح مکہ وغیرہ بھی نشان نہیں؟ کیونکہ صحابہ نے ان میں تلواروں اور نیزوں سے کام لیا تھا۔اے صداقت کے دشمنو! سوچو کہ تم یہ اعتراض کر کے تمام صداقتوں اور سارے نبیوں پر الزام لگاتے ہو۔خدا کے قہر سے ڈر جاؤ۔ورنہ دہریت کی موت مرد گے۔ربع زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بُوئے ایماں ہے معترض پٹیالوی نے طباعت وغیرہ کے لئے اس قدر دشواری کا ذکر کیا ہے کہ گویا مولوی ثناء اللہ افغانستان کی کسی وادی میں رہتے ہیں اور ان کو کلکتہ میں کتاب چھپوانی پڑتی لہ ترجمہ جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے اسباب پیدا کرے گا اور اس کو نا معلوم اور خیال سے بالا طریق پر سامان دے گا۔۱۲ 298