تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 25 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 25

” واقعات گزشتہ سے بھی اس امر کا ثبوت پہنچتا ہے کہ خدا نے کبھی کسی جھوٹے نبی کو سر سبزی نہیں دکھائی۔یہی وجہ ہے کہ دنیا میں باوجود غیر متناہی مذاہب ہونے کے جھوٹے نبی کی اُمت کا ثبوت مخالف بھی نہیں بتلا سکتے۔مسیلمہ کذاب اور عبید اللہ عنسی کے واقعات تاریخ دانوں سے پوشیدہ نہیں کہ کس طرح ان دونوں نے اپنے اپنے زمانہ میں حضور اقدس فداہ روحی کا جاہ و جلال دیکھ کر دعوے نبوت کے کئے اور کیسے کیسے خدا پر جھوٹ باند ھے۔لیکن آخر کا رخدا کے زبر دست قانون کے نیچے آکر کچلے گئے اور کس ذلت اور رسوائی سے مارے گئے کہ کسی کو گمان بھی نہ ہوتا تھا۔حالانکہ تھوڑے دنوں میں بہت کچھ ترقی کر چکے تھے مگر تا بگے؟“ (مقدمہ تفسیر ثنائی صفحہ ۱۷) ناظرین کرام ! ہر سہ واضح حوالجات آپ کے سامنے ہیں۔حضرت امام ابن القیم کا شافی بیان، اہلسنت والجماعت کی مستند کتاب نبراس کی کھلی شہادت، اور معاند احمدیت مولوی ثناء اللہ صاحب مدیر اہلحدیث کا اقرار ایک طرف ہے اور مصنف ” عشرہ کاملہ منشی محمد یعقوب کا دعوی کئی کا ذب مدعیان کا زمانہ ۲۳ سال کی مدت سے زیادہ ہے، دوسری طرف ہے۔فیصلہ آپ خود کر سکتے ہیں۔ہاں یا دور ہے کہ ہمارے مخاطب منشی صاحب کا اپنا اقرار ہے کہ میں کم علم ہوں۔“ (عشرہ صفحہ ۱۵) ہم کامل تحقیات کے بعد نہایت وثوق سے اس اعتقاد پر قائم ہیں کہ ” کا ذب مدعیان کا زمانہ ۲۳ سال کی مدت سے زیادہ کا دعویٰ سراسر مغالطہ اور افتراء ہے۔قرآن مجید اس خیال کو دھکے دے رہا ہے۔عقل انسانی اس کی تردید کر رہی ہے۔تفاسیر و بائیل کے بیانات اس کے مخالف ہیں اور پھر متقین کی شہادتیں اس کو غلط بتارہی ہیں۔منشی صاحب اور ان کے فخر المحد ثین نے اس جھوٹے دعوے سے اسلام کی تو کوئی خدمت نہیں کی لیکن اس یقینی دعوئی پر جو ابتداء اسلام سے ائمہ کرتے آئے اور اس معیار صداقت کے خلاف جسے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا اور تمام متکلمین پیش کرتے رہے اور آج تک کوئی دشمن اسلام اس کے خلاف ایک نظیر بھی پیش نہ کر سکا بلکہ ہمیشہ عجز کا اعتراف کیا گیا کئی نظیروں کا دعویٰ کر دیا۔افسوس 25