تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 285 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 285

-: خدا کا خوف نہیں رہا۔جبکہ تم خود تسلیم کر چکے ہو کہ وو مرزا صاحب نے پیر صاحب کو لکھا کہ سورۂ فاتحہ کی تفسیر چار جز وستر دن میں میں بھی لکھتا ہوں تم بھی لکھو۔“ (عشرہ صفحہ ۶۷) تو پھر شکوہ کیسا ؟ فریقین کو ستر دن کی مہلت دی گئی جو ۱۵ / دسمبر ۱۹۰۰ ء سے ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء تک تھی۔حضرت مرزا صاحب نے میعاد کے اندر ۲۳ فروری ۱۹۰۱ء کو تفسیر عربی سورۂ فاتحہ ساڑھے بارہ جزو پر مشتمل پیر صاحب کے نام رجسٹری کرا دی۔اس میں دکانداری کیسی ہے؟ پیر صاحب نے الگ مستقل تفسیر ستر دن میں لکھنی تھی حضرت اقدس نے الگ۔پیر صاحب نہ لکھ سکے اور حضرت اقدس نے طبع کرا کر میعاد مقررہ میں ان کو بھیج دی۔فظهر الحق وبطل ما كانوا يأفكون ناظرین! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ معترض پٹیالوی کس قدر دھوکا دے رہا ہے۔گویا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ پیر صاحب بڑے مظلوم ہیں ان کو لکھنے کا موقع ہی نہ دیا گیا اور یونہی ان کے عجز کا اور اپنے اعجاز کا اعلان کر دیا۔حالانکہ فریقین کے لئے ستر دن کی یکساں میعاد تھی۔کسی نے مصنف عشرہ کے حق میں خوب کہا۔14 اُلٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے دے آدمی کو موت پہ یہ بد ادانہ دے (۲) قوله : - "احکم کی یہ تحریر حقیقۃ الوحی کی محولہ بالا تحریر سے بہت پہلے کی ہے۔لیکن دونوں میں بھاری اختلاف ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۶۶) اقول : - ہم پہلے حقیقۃ الوحی اور احکام کی وہ عبارتیں درج کرتے ہیں جو معترض پٹیالوی نے اپنی کتاب کے صفحہ ۶۵ پر درج کی ہیں اور وہ یہ ہیں :- حقیقۃ الوحی کی عبارت ایڈیٹر صاحب الحکم کی تحریر "رسالہ اعجاز امسیح جب فصیح عربی میں میں ناظرین کو اس کی حالت اور کوائف پر نے لکھا تو خدا تعالیٰ سے الہام پا کر میں نے پوری اطلاع پانے کے لئے یاد رکھنا یہ اعلان شائع کیا کہ اس رسالہ کی نظیر اس چاہئے کہ اعجاز المسیح جو حضرت حمہ اللہ (285)