تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 284 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 284

نہایت سارقانہ کارروائی ہے کہ ایک فوت شدہ شخص کے خیالات لکھ کر اپنی طرف منسوب کر لئے اور اس کا نام تک نہ لیا۔پیر صاحب کا ایک کارڈ جو مجھے پرسوں ہی پہنچا ہے با صلبا جناب کے ملاحظہ کے لئے روانہ کیا جاتا ہے۔جس میں انہوں نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مولوی محمد حسن کے نوٹ انہوں نے چرا کر سیف چشتیائی کی رونق بڑھائی ہے لیکن ان سب باتوں کو میری طرف سے ظاہر فرمایا جانا خلاف مصلحت ہے۔ہاں اگر میاں شہاب الدین کا نام ظاہر بھی کر دیا جائے تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ پیر صاحب کی جماعت مجھ پر سخت ناراض ہو میاں شہاب الدین کی طرف سے بعد سلام علیکم مضمون واحد ہے۔والسلام خاکسا رحم کرم الدین عفی عنہ از نھیں تحصیل چکوال مؤرخہ ۲۱ جولائی ۱۹۰۲ : “ ( نزول اسیح صفحہ ۷۷-۷۹) وو ناظرین کرام ! ظاہر ہے کہ سیف چشتیائی“ پیر صاحب کی تفسیر نویسی سے عاجزی کے دھبہ کو دھو نہیں سکی۔بلکہ صورت موجودہ میں سیف چشتیائی جو ایک عامیانہ کتاب ہے ان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔سچ ہے سو مر گیا بدبخت اپنے وار سے کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے گھل گئی ساری حقیقت سیف کی * کم کرو اب ناز اس مردار سے (نزول المسیح) (۵) قوله :- لطف یہ کہ ۲۳ فروری انشاء کو تفسیر پیر صاحب کے نام رجسٹری کرائی گئی اور اسی دن ( غلط - ۲۵ فروری کو۔ناقل ) ستر دن کی میعاد بھی ختم ہو گئی۔کتنی زبر دست چالا کی ہے جو خاص دکانداروں کا خاصہ ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۶۷) اقول :- اس قدر بلادت؟ اتنی غباوت یا پھر اتنی شرارت؟ کیا ان لوگوں کو اء لا يكون المؤمن جباناً۔حضرت نے نام ظاہر فرما دیا اسلئے مولی کرم الدین بگڑ بیٹھے اور مقدمات تک نوبت پہنچی۔بالآخر خود حضرت مسیح موعود کا نشان بن گئے۔ملاحظہ ہو مواہب الرحمن صفحہ ۱۲۹ ( ابوالعطاء ) (284)