تفہیماتِ ربانیّہ — Page 23
اگر جھوٹ بولتا ہے تو سچا نبی نہیں ہو سکتا۔یہ اجتماع ناممکن ہے۔مگر افسوس کہ حق کی بع مخالفت میں بار بار کہا جاتا ہے سچا نبی ہو اور پھر جھوٹ بولے۔“ ع بسوخت عقل زحیرت که این چه بوالعجمی است حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انعامی چیلنج ۵۰۰ آیات قرآنی ، بائیبل کے حوالہ جات ، اور مسلمات اہلسنت کے بعد ضروری ہے کہ ہم بتادیں کہ از روئے واقعات بھی یہ تمیس سالہ معیار ناقابل تردید صداقت اور ہر زمانہ میں مضبوط چٹان ثابت ہوا ہے اس کے لئے سب سے پہلے ہم سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ چیلنج درج کرتے ہیں جو حضور نے اپنے مخالفین کے سامنے پانصد روپیہ کی انعامی رقم کے ساتھ پیش فرمایا۔حضور تحریر فرماتے ہیں :- اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اور کھلے کھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو منا کر پھر با وجود مفتری ہونے کے تئیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اسکے جو مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسور و پیہ نقد دے دوں گا۔“ ( اربعین نمبر ۳ صفحہ ۱۵) کیا کوئی ہے جس نے ایسی نظیر پیش کی ہو یا اب کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔تمام مخالفین کا ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر رہنا اس حقیقت کو واضح کر دیتا ہے کہ ایسی نظیر کی تلاش سعی لاحاصل ہے۔واقعات گزشتہ اور ۲۳ سالہ معیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لا جواب چیلنج بجائے خود اس بات کی پختہ دلیل ہے کہ کبھی بھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کسی مفتری نے افتراء پردازی کے بعد ۲۳ سال مہلت پائی ہو۔لیکن تکمیل بحث کی خاطر ذیل میں چند شہادتیں درج ہیں کہ کبھی کسی کا ذب مدعی الہام نے اتنی طویل مہلت نہیں پائی۔کیونکہ اتنی مہلت پانا دلیل صداقت قرار پاچکا ہے اور وہ شہادتیں یہ ہیں :۔23