تفہیماتِ ربانیّہ — Page 263
دجل خدا کے نزدیک ایسا مکروہ ہے کہ قریب ہے جو اس سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جا ئیں۔یہی گروہ مشتِ خاک کو خدا بنانے والا ہے۔خدا نے یہودیوں اور مشرکوں اور دوسری قوموں کے طرح طرح کے دجل قرآن شریف میں بیان فرمائے۔مگر یہ عظمت کسی کے دجل کو نہیں دی کہ اس دجل سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتے ہیں۔پس جس گروہ کو خدا نے اپنے پاک کلام میں دجال اکبر ٹھہرایا ہے۔ہمیں نہیں چاہئے کہ اس کے سوا کسی اور کا نام دقبال اکبر رکھیں۔(انجام آتھم صفحہ ۴۶) (ب) ” ظاہر ہے کہ یہ کر سچن قوموں اور تثلیث کے حامیوں کی جانب سے وہ ساحرانہ کاروائیاں ہیں اور سحر کے اس کامل درجہ کا نمونہ ہے جو بجز اول درجہ کے دجال کے جود قبال معہود ہے اور کسی سے ظہور پذیر نہیں ہوسکتیں۔لہذا انہیں لوگوں کو جو پادری صاحبوں کا گروہ ہے دقبال معہود ماننا پڑا۔(ازالہ اوہام طبع سوم صفحه ۲۰۶) (ج) ”میرا مذہب یہ ہے کہ اس زمانہ کے پادریوں کی مانند کوئی اب تک دجال پیدا نہیں ہوا اور نہ قیامت تک پیدا ہوگا۔“ (ازالہ اوہام طبع سوم صفحہ ۲۰۳) (5) ابن صیاد اپنے اوائل ایام میں بے شک ایک دجال ہی تھا۔اور بعض شیاطین کے تعلق سے اس سے امور عجیبہ ظاہر ہوتے تھے۔“ (ازالہ اوہام طبع سوم صفحه ۹۵) ان حوالجات سے عیاں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابن صیاد کو مطلق ایک دجال تسلیم کیا ہے، ہاں گروہ پا در یاں کو دجال معہود مانا ہے۔فلا اشکال فیہ۔ابن صیاد کی دجالیت کے متعلق احادیث میں بکثرت ذکر موجود ہے۔شرح العقائد میں لکھا ہے :- وَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ يَخَافُ أَنَّهُ الرِّجَالُ۔۔۔وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَابْنُهُ عَبْدُ اللهِ وَ جَابِرُ الْأَنْصَارِ يَعْتَقِدُونَ أَنَّهُ الرِّجَالُ۔(نبراس صفحہ ۵۸۵) (263)