تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 244 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 244

ان دو آراء میں اختلاف کیوں ہے؟ حصہ اول کا جواب یہ ہے کہ بے شک آپ نے اس تفسیر کو نہیں پڑھا اور طبع ہونے کے بعد ملاحظہ نہیں فرمایا۔لیکن تاہم اس کے متعلق رائے قائم کرنے کا آپ کو حق تھا۔کیونکہ خود ڈاکٹر عبد الحکیم بعد ارتدا دلکھتا ہے :- خود مولوی نورالدین صاحب بھی جو جماعت احمدی میں اسلام کا ایک عملی نمونہ ہیں ان ایام میں جبکہ میں تفسیر القرآن بغرض اصلاح حضرت مرزا صاحب اور آنجناب کو عنا یا کرتا تھا فرما یا کرتے تھے کہ مرزا صاحب کو تو بس وفات مسیح کی بحث سناد یا کرو۔“ ( الذکر اتحکیم ہے صفحہ ۱-۲) معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر عبد الحکیم کی تفسیر کو سنا تھا یا کم از کم اس کے بعض مقامات ضرور سنے تھے۔پھر ڈاکٹر مذکور حضرت مولا نا نور الدین صاحب خلیفہ المسح الاول رضی اللہ عنہ کومخاطب کرتے ہوئے اپنے خط مورخہ ۲۸ رمئی ۱۹۰۶ ء میں لکھتا ہے :- جن ایام میں مرزا صاحب کو میں تفسیر القرآن سنا یا کرتا تھا آپ کو بھی یاد ہو گا کہ تمام تفسیر میں مرزا صاحب نے کسی ایک مقام پر بھی نہ تو کوئی اصلاح کی ، نہ کوئی خاص نکتہ معرفت بتایا۔آپ نے بے شک بعض غلطیاں بھی درست کیں اور بعض نئے نکات بھی بتائے۔“ (الذکر احکیم ہے صفحہ ۵۳) بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر عبد الحکیم کی تفسیر کو سنا تھا اس لئے آپ اس کے متعلق رائے ظاہر کرنے کا حق رکھتے تھے۔غرض یہ بھی درست ہے کہ آپ نے اس تفسیر کو نہیں پڑھا کیونکہ طباعت کے بعد آپ نے اس کو نہ دیکھا اور نہ پڑھا۔ہاں خود ڈا کٹر مذکور نے قبل طباعت بغرض اصلاح اس کے بعض مقامات حضور کے گوش گزار کئے۔اور ظاہر ہے کہ تفسیر کوٹن کر بھی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔فَلَا اعْتَرَاضَ۔اعتراض کا دوسرا حصہ اب رہا یہ سوال کہ تفسیر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو مختلف رائیں کیوں ظاہر کیں ؟ اس (244)