تفہیماتِ ربانیّہ — Page 243
کہ وہ لوگ سچ سچ کسی دن حضرت مسیح بن مریم کو آسمان سے اترتے دیکھ لیں گے۔سو انہیں اس بات پر ضد کرنا کہ ہم تب ہی ایمان لائیں گے کہ جب مسیح کو اپنی آنکھوں سے آسمان سے اُتر تا ہو ا مشاہدہ کریں گے یہ ایک خطر ناک ضد ہے۔“ (ازالہ اوہام پہلا ایڈیشن صفحہ ۲۰۰) خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حضرت کے بعد بھی مثیل مسیح بلکہ دیگر انبیاء کے مثیل بھی آتے رہیں گے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ” موعود مسیح ہیں اور آپ کا ماننا از بس ضروری ہے۔ان عبارتوں میں نہ کوئی تضاد ہے نہ تعارض۔گر نه بیند بروز شیره چشم چشمه آفتاب را گناه چه ساتواں اختلاف ڈاکٹر عبدالحکیم خان کی تفسیر - اس جگہ معترض پٹیالوی نے ڈاکٹر پٹیالی کی تفسیر کا ذکر کر کے لکھا ہے کہ اس کی نسبت پہلے مرزا صاحب نے فرمایا ” نہایت عمدہ ہے ، شیریں بیان ہے، نکات قرآنی خوب بیان کئے ہیں، دل سے نکلی اور دلوں پر اثر کرنے والی ہے۔“ بعد میں اخبار بدر کے رجون ۱۹۰۶ ء میں لکھا :- ڈاکٹر عبد الحکیم خان کا تقوی صیح ہوتا تو وہ بھی تفسیر لکھنے کا نام نہ لیتا کیونکہ وہ اس کا اہل نہیں ہے۔اس کی تفسیر میں ایک ذرہ روحانیت نہیں اور نہ ظاہری علم کا کچھ حصہ ہے۔“ اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ ”میں نے اس کی تفسیر کو بھی نہیں پڑھا۔“ ان تینوں اقتباسات کے بعد معترض پیٹیا لوی لکھتا ہے :- اگر کبھی نہیں پڑھا تو پہلی اور پچھلی رائے کس طرح قائم کر دی۔غرض تینوں باتیں ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۶۱) الجواب۔اس اعتراض کے دھتے ہیں۔اول یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب اس تفسیر کو پڑھا نہیں تو اس کے متعلق کوئی رائے کس طرح قائم کر سکتے ہیں۔دوم (243)